نجاسات اور پاکی

پیشاب کے قطروں کے مریض شخص کے احکامات

فتوی نمبر :
35541
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

پیشاب کے قطروں کے مریض شخص کے احکامات

مفتی صاحب ! مجھے پیشاب کے قطروں کی شکایت ہے ، جب میں پیشاب کرتا ہوں تو تین چار گھنٹے تک پیشاب کے قطرے آتے رہتے ہیں ، میں نماز کیسے پڑھوں؟ اور اس کا اسلامی علاج کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو مذکورہ عذر اگر اس قدر لاحق ہو کہ اسے کبھی بھی نماز کے پورے وقت میں عذر کے تسلسل کی وجہ سے اتنا وقت بھی نہ ملے ، جس میں وہ کامل طہارت کے ساتھ وقتیہ فرض نماز ادا کرسکے تو اس صورت میں شرعاً وہ معذور کے حکم میں داخل ہوجائے گا ، تفصیل اس کی یہ ہے کہ مثلاً ادائیگئِ ظہر کے لئے وہ ظہر کے ابتدائی وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے، اگر اس دوران اسے اتناوقت بھی نہ ملے کہ‬‎ ‎وہ کامل طہارت کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کر سکے ، تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہرکے اخیر وقت میں وضو کر کے فقط فرض نماز پڑھے، اس کے‬‎ ‎‫بعد عصر کی نماز کی ادائیگی کے لئے پورا وقت انتظار کرنے کی ضرو ت نہیں، بلکہ جماعت سے پہلے وضو کر کے نمازِ عصر باجماعت ادا کرے، اس دوران اگر پیشاب کے قطرے آتے رہیں، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا اور کپڑے کو بھی دھونے کی ضرورت نہیں پڑے گی، اسی طرح مغرب و عشاء میں بھی ایسا ہی کرے کہ ہر نماز کے لئے الگ الگ وضو کرلیا کرے ، اس پورے وقت میں اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقضِ وضو نہ پایا گیا تو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونےسے وضو نہیں ٹوٹے گا ، البتہ اس دوران اگر پورا وقتِ نماز ایسا گزرے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہو ، تو وہ شرعاً معذور نہیں رہے گا ۔
‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬جبکہ اس بیماری کے علاج کے لئے کسی مستند اور حاذق ڈاکٹر سے علاج کے لئے رجوع کرے اور اس کے ساتھ ساتھ قرآن پاک کی آیات (سورۃ ہود ، آیت نمبر : 44 سورت الملک : آیت نمبر: 30) کاغذ پر لکھ کر پانی میں ڈال کر پیئے یا کسی چمڑے میں باندھ کر گلے میں لٹکائے-

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (و صاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب و كذا كل ما يخرج بوجع و لو من أذن و ثدي و سرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ و يصلي فيه خاليا عن الحدث (و لو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (و هذا شرط) العذر (في حق الابتداء و في) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) و لو مرة (و في) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل (و حكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت اھ (1/305)۔
و فی الفتاوی الھندیة : (و مما يتصل بذلك أحكام المعذور) شرط ثبوت العذر ابتداء أن يستوعب استمراره وقت الصلاة كاملا و هو الأظهر كالانقطاع لا يثبت ما لم يستوعب الوقت كله حتى لو سال دمها في بعض وقت صلاة فتوضأت و صلت ثم خرج الوقت و دخل وقت صلاة أخرى و انقطع دمها فيه أعادت تلك الصلاة لعدم الاستيعاب و إن لم ينقطع في وقت الصلاة الثانية حتى خرج لا تعيدها لوجود استيعاب الوقت و شرط بقائه أن لا يمضي عليه وقت فرض إلا و الحدث الذي ابتلي به يوجد فيه هكذا في التبيين اھ (1/40)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 35541کی تصدیق کریں
0     900
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات