میری عمر انگریزی حساب سے ۷۱ سال ہے، نماز میں اُٹھتے بیٹھتے گھٹنوں میں بہت درد ہوتا ہے، لیکن ہمت کر کے عام آدمی کی طرح نماز پڑھ لیتا ہوں، کیا میں بیٹھ کر یا کرسی پر نماز پڑھ سکتا ہوں؟ نماز بیٹھ کر پڑھنا افضل ہے یا کرسی پر؟ اگر جماعت کی نماز کے دروان وضو ٹوٹ جائے تو کیا کریں؟ نمازیوں کے آگے سے گزر کر وضو کے لیے جا سکتے ہیں؟
سائل کو ضعیف العمری کی وجہ سے اگر کھڑے ہو کر نماز پڑھنا ممکن نہ ہو ، یا ممکن ہو مگر اس کو مشقت اور دشواری ہو ، تو ایسی صورت میں سائل کے لیے کرسی پر یا زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے، البتہ کرسی کے بجائے زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا اولیٰ اور افضل ہے، جبکہ دورانِ نماز اگر وضو ٹوٹ جائے تو نمازیوں کے آگے سے گزرنے کے بجائے صفوں کو چیرتے ہوئے جماعت سے نکلنا چاہیئے، البتہ اگر مجبوری کی وجہ سے کسی نمازی کے آگے سے گزرنا پڑے، تو اُمید ہے کہ اس پر مواخذہ نہ ہوگا۔
ففی مصنف ابن أبي شيبة: حدثنا هشيم، وابن فضيل، عن حصين، عن سعيد بن جبير، والشعبي، أنهما قالا في الحدث والرعاف: «ينصرف فيتوضأ، فإن تكلم استأنف الصلاة، وإن لم يتكلم بنى على صلاته» اھ (2/ 13)
وفی الدر المختار: (من تعذر عليه القيام) أي كله (لمرض) حقيقي وحده أن يلحقه بالقيام ضرر به يفتى (قبلها أو فيها) أي الفريضة (أو) حكمي بأن (خاف زيادته أو بطء برئه بقيامه أو دوران رأسه أو وجد لقيامه ألما شديدا) أو كان لو صلى قائما سلس بوله أو تعذر عليه الصوم كما مر (صلى قاعدا) ولو مستندا إلى وسادة أو إنسان فإنه يلزمه ذلك على المختار (كيف شاء) على المذهب لأن المرض أسقط عنه الأركان فالهيئات أولى اھ (2/ 97،96)
وفی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله قيل وبه يفتى) (إلی قوله) أقول: ينبغي أن يقال إن كان جلوسه كما يجلس للتشهد أيسر عليه من غيره أو مساويا لغيره كان أولى وإلا اختار الأيسر في جميع الحالات اھ (2/ 97)
وفی الدر المختار: (ولا يفسدها نظره إلى مكتوب وفهمه) ولو مستفهما وإن كره (ومرور مار في الصحراء أو في مسجد كبير بموضع سجوده) في الأصح اھ (1/ 634) واللہ أعلم بالصواب!