جناب مفتی صاحب! السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد حرام میں نماز کا ثواب کتنا ہے؟ اور شہر مکہ میں نماز کا ثواب کتنا ہے؟ کیا مسجد حرام میں ادا کی جانے والی نماز اور مسجد حرام سے باہر تقریباً ۱۰ کلو میٹر دور ہوٹل میں ادا کی جانے والی نماز کا ثواب برابر ہے، کیونکہ بہت سے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ دونوں جگہ کا ثواب برابر ہے ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمادیں۔
مسجدِ حرام میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہوتا ہے، یہ ثواب بعض اہل علم کے ہاں صرف اس جگہ کے ساتھ خاص ہے، جہاں نمازِ باجماعت ادا کی جاتی ہے، لیکن مشہور اور صحیح قول یہ ہے کہ پورے حدودِ حرم میں جہاں بھی نماز ادا کی جائے، اس پر یہ ثواب ملتا ہے۔
وفی حاشية ابن عابدين: واختلف في المراد بالمسجد الحرام، قيل مسجد الجماعة (إلی قوله) في شرح الأشباه في أحكام المسجد أن المشهور عند أصحابنا أن التضعيف يعم جميع مكة بل جميع حرم مكة الذي يحرم صيده كما صححه النووي. (2/ 525)