نجاسات اور پاکی

خشک منی یا مذی کو ہاتھ سے کھرچنے کا حکم

فتوی نمبر :
35165
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

خشک منی یا مذی کو ہاتھ سے کھرچنے کا حکم

السلام علیکم ! مذی سوکھ جانے کے بعد کپڑوں سے ہاتھ سے اچھی طرح ملنے سے کپڑے پاک ہوجائیں گے ؟ یا نہیں ؟ اور منی کا کیا حکم ہے ، اگر کپڑوں پر سوکھ جائے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

موجودہ دور میں ضعفِ طبائع کی وجہ سے عموماً منی اس قدر گاڑھی نہیں ہوتی کہ کھرچنے کی وجہ سے اس کا اثر زائل ہو کر کپڑا پاک ہو جائے ، بلکہ منی پتلی ہونے کی وجہ سے کپڑوں میں جذب ہوجاتی ہے ، اس کو پانی سے دھو کر پاک کرنا ضروری ہے اور مذی کا بھی یہی حکم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (بلا فرق بين منيه) و لو رقيقا لمرض به (و منيها)
(قوله : و منيها) (الیٰ قوله) و النص ورد في مني الرجل و مني المرأة ليس مثله لرقته و غلظ مني الرجل و الفرك إنما يؤثر زوال المفروك أو تقليله و ذلك فيما له جرم و الرقيق المائع لا يحصل من فركه اھ (1/313)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 35165کی تصدیق کریں
0     1033
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات