نجاسات اور پاکی

ناپاک اشیاء دھوتے ہوۓ ، کپڑوں پر پڑنے والی چھینٹوں کا حکم

فتوی نمبر :
34965
| تاریخ :
2019-05-23
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

ناپاک اشیاء دھوتے ہوۓ ، کپڑوں پر پڑنے والی چھینٹوں کا حکم

جو نجاست خشک ہو اور پھر اس کو دھو لیا جائے، تو اس کے چھینٹوں کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ ہمیں اکثر خشک اور تری والی نجاست کے ازالے کے وقت چھینٹے لگتے ہیں ، اور ان سے بچنا بھی مشکل ہے ، اور ان کپڑوں میں جتنی نمازیں پڑھی ہیں ان کا کیا حکم؟ سائل جانتا ہے کہ اکابرین کا عدمِ جواز کا فتویٰ ہے ، لیکن سائل نے بہت کوشش کی بچنے کی ، لیکن ہمیشہ ناکام ہوا ، اور ہمیشہ خیال ہوتا ہے کہ پتہ نہیں نمازیں درست ہیں یا نہیں؟ اس لئے اگر اس مسئلہ میں کچھ تخفیف کی گنجائش ہے تو اس کو ذکر فرمائیں، اللہ پاک آپ حضرات کو اجر دے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ناپاک کپڑوں کی چھینٹیں بھی ناپاک ہیں، اگر نجاستِ غلیظہ کی چھینٹیں بقدرِ درہم ہوجائیں، تو ان کپڑوں میں نماز پڑھنا درست نہیں، سائل نے جتنی نمازیں ایسے ناپاک کپڑوں میں ادا کی ہیں ان سب نمازوں کو اِعادہ لازم ہے، اگر ان چھینٹوں سے بچنا ممکن نہ ہو تو نماز کیلئے دوسرے پاک کپڑوں کا انتظام کرنا چاہیۓ۔

مأخَذُ الفَتوی

فی رد المحتار : تحت قوله (و انتضاح غسالة الخ) (الی قوله) و فی الفتح و ما ترشش علی الغاسل من غسالة المیت مما لا یمكنه الا متناع عنه ما دام فی علاجه لا ینجسه لعموم البلوی بخلاف الغسلات الثلاث إذا استنقعت فی موضع فأصابت شیئا نجسته اهـ أی بناء علی ما علیه العامة من أن نجاسة المیت نجاسة خبث لا حدث كما حررناه فی أول فصل البئر و احترز بالثلاث عن الغسالة فی المرة الرابعة فإنها طاهرة . اهـ (ج۱، ص۳۲۵)۔
و فی الفتاویٰ الهندیة : الأول المغلظة و عفی منها قدر الدرهم (الی قوله) عن الإیضاح كل ما یخرج من بدن الإنسنان مما یوجب خروجه الوضوء أو الغسل فهو مغلظ كالغائط و البول و المنی و المذی و الودی و القیح و الصدید و القیء إذا ملأ الفم كذا فی البحر الرائق و كذا دم الحیض و النفاس و الاستحاضة هكذا فی السراج الوهاج و كذلك بول الصغیر و الصغیرة أكلا أو لا ، كذا فی الاختیار شرح المختار و كذلك الخمر و الدم المسفوح و لحم المیتة و بول ما لا یؤكل و الروث (الی قوله) فإذا أصاب الثوب أكثر من قدر الدرهم یمنع جواز الصلاة كذا فی المحیط و الثانی المخففة و عفی منها ما دون ربع الثوب كذا فی أكثر المتون . اهـ (ج۱، ص۴۶)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدکامران اعجاز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 34965کی تصدیق کریں
0     1449
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات