نجاسات اور پاکی

کیا پالتو بلی کا منہ یا باقی بدن چومنا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
34806
| تاریخ :
2018-07-17
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

کیا پالتو بلی کا منہ یا باقی بدن چومنا جائز ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! گھروں میں بلی پالنے کا رواج ہے، دیکھا ہے کہ بلی بہت پیار کا تقاضا کرتی ہیں ،اور مالکوں سے کھیلتی بھی رہتی ہیں، دریافت طلب امور درج ذیل ہیں:
کیا پالتو بلی کا منہ یا باقی بدن چومنا جائز ہے؟ اگر نہیں تو حرمت کس درجے کی ہے؟ اگر بلی اپنی زبان سے انسان کا ناک منہ وغیرہ چاٹ لے تو کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

گھروں میں بلی پالنے اور بطور شفقت اور محبت اس پر ہاتھ پھیرنے میں تو کوئی حرج نہیں، البتہ اس کے منہ یا باقی بدن پر بوسہ دینا فطرت سلیمہ کے خلاف ہے، جس سے احتراز کرنا چاہیئے، جبکہ بلی اگر بدن یا کپڑے کے کسی حصہ کو زبان سے چاٹ لے، تو اس مقام کو دھونا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی حاشية ابن عابدين: (قوله مخلاة) بتشديد اللام: أي مرسلة تخالط النجاسات ويصل منقارها إلى ما تحت قدميها، أما التي تحبس في بيت وتعلف فلا يكره سؤرها؛ لأنها لا تجد عذرات غيرها حتى تجول فيها وهي في عذرات نفسها لا تجول بل تلاحظ الحب بينه فتلتقطه كما حققه في الفتح، وتمامه في البحر اھ (1/ 223)
وفی حاشية ابن عابدين: (وسواكن بيوت) طاهر للضرورة (مكروه) تنزيها في الأصح اھ (1/ 224)
وفی حاشية ابن عابدين: [فرع] تكره الصلاة مع حمل ما سؤره مكروه كالهرة اهـ بحر عن التوشيح قلت: وينبغي تقييده بالتوهم أيضا كما علمته مما مر، ويظهر منه كراهة الصلاة بثوب أصابه السؤر المكروه كما ذكره في الحلية اھ (1/ 225) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد المنان ارشد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 34806کی تصدیق کریں
0     855
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات