السلام علیکم! مفتی صاحب پہلے نماز نہیں پڑھتا تھا، سارے غلط کام کرتا تھا، وقت گزار رہا تھا،لیکن اب ڈیڑھ سال سے پابندی سے نماز پڑھتا ہوں، حرام سے دور رہتا ہوں، اس کے باوجود روز بروز مالی معاملات خراب ہوتے جارہے ہیں، اللہ کے ہاں کوئی سوال قبول نہیں ہوتا، بہت پریشان ہوں کہ یہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے کوئی دعا قبول نہیں ہوتی ہے، ذہن میں گندے گندے خیالات آنا شروع ہو گئے ہیں، اب مسجد جانے کا بھی دل نہیں کرتا ہے، مفتی صاحب راہ نمائی فرمائیں۔
سائل کو چاہیئے کہ گناہوں سے بچتے ہوئے اعمالِ صالحہ خصوصاً نماز اور دعاؤں کا اہتمام ثابت قدمی کے ساتھ کرتا رہے ،اور عارضی حالات آنے کی وجہ سے مصائب آنے پر صبر کرتے ہوئے ،اللہ تعالیٰ سے ان کے ازالے کے لئے دعاؤں کا بھی اہتمام کرے اور اس کے ساتھ ساتھ تمام مصائب کے حل، دعاؤں کی قبولیت اور خیالاتِ فاسدہ دور کرنے کے لئے مندرجہ ذیل دو آیات مبارکہ کا ورد کرے، ان شاء اللہ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ تمام حاجات پوری فرمادیں گے۔
1-”((وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا))“(الطلاق:۳)
2-”}رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ{“(مؤمن:۹۸)(اعمال قرآنی)