نجاسات اور پاکی

سلسل البول والے شخص کا حکم

فتوی نمبر :
34628
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

سلسل البول والے شخص کا حکم

مجھے ایک مسئلہ ہے کہ مجھے تھوڑی تھوڑی دیر بعد خاص طور پر جب کھانا کھایا ہو یا رفعِ حاجت کی ہو پاخانے کی جگہ میں تری محسوس ہوتی ہے ، کیا اس سے وضو ختم ہوجاتا ہے ؟ تراویح کی نماز میں بار بار جاکر پاخانہ کی جگہ دھونا اور پھر وضو کرنا ممکن نہیں ہوتا ، ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ سائل کواگر اس سلسلہ میں محض شک یا وہم نہ ہو تا ہو ، بلکہ واقعۃً نجاست کا کچھ حصہ تری کی صورت میں خارج ہو تا ہو اور پھر اس بیماری کے دوران‬‎ ‎‫کسی‬‎ ‎‫بھی نماز کے پورے وقت میں اس عذر کے تسلسل کی وجہ سے اسے اتنا وقت نہ ملے جس میں وہ کامل طہارت کے ساتھ وقتیہ نماز ادا کر سکے، تو اس صورت میں‬‎‬‬‬‬‬‬‬‬‬شر عاً وہ معذور کے حکم میں داخل ہے ، تفصیل اس حکم کی یہ ہے کہ مثلا ادائیگیِ ظہر کے شروع و قت سے اخیر وقت تک انتظار کرے ، اگر اس دوران اتنا وقت نہ ملے‬‎ ‎‫کہ کامل‬‎‬‬‬‬‬‬طہارت کے ساتھ ظہر ادا کر سکے تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کر کے فقط فرض نمازِ ظہر ادا کر لے ، اس کے بعد نماز عصر کی ادائیگی کے لئے پورا وقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں، اس دوران اگر نجاست خارج بھی ہو جائے ، تو اس سے وضوء نہیں ٹوٹے‬‎ ‎‫گا ، اسی طرح مغرب و عشاء میں بھی وہ ایساہی کرلے کہ ہر نماز کے لئے الگ الگ وضوء کر لیا کرے ، اس پورے وقت میں اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقضِ وضوء نہ پایا‬‎ ‎‫گیا تو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونے سے اس کا وضوء نہیں ٹوٹے گا ، البتہ اس دوران اگر پورا وقتِ نماز کوئی ایسا گزر جائے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہو ، تو شرعاً وہ معذور نہیں رہے گا ، اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے موافق عمل کرنے کی ‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬اشد ضرورت ہے۔‬‎‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوی الھندية : (و مما يتصل بذلك أحكام المعذور) شرط ثبوت العذر
ابتداء أن يستوعب استمراره وقت الصلاة كاملا و هو الأظهر كالانقطاع لا يثبت ما لم يستوعب الوقت كله حتى لو سال دمها في بعض وقت صلاة فتوضأت و صلت ثم خرج الوقت و دخل وقت صلاة أخرى و انقطع دمها فيه أعادت تلك الصلاة لعدم الاستيعاب و إن لم ينقطع في وقت الصلاة الثانية حتى خرج لا تعيدها لوجود استيعاب الوقت و شرط بقائه أن لا يمضي عليه وقت فرض إلا و الحدث الذي ابتلي به يوجد فيه ، هكذا في التبيين المستحاضة و من به سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة و يصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض و النوافل هكذا في البحر الرائق اھ (1/40)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 34628کی تصدیق کریں
0     639
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات