احکام نماز

چھ سے زائد نمازیں قضا ہو جائیں تو ان کے پڑھنے کی ترتیب اور حکم

فتوی نمبر :
33962
| تاریخ :
2018-04-18
عبادات / نماز / احکام نماز

چھ سے زائد نمازیں قضا ہو جائیں تو ان کے پڑھنے کی ترتیب اور حکم

السلام علیکم! میں امید کرتا ہوں کہ آپ خیریت سے ہونگے، میں آپ سے ایک سوال قضاء نمازوں کے بارے میں کرنا چاہتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ تمام قضاء نمازوں کو ادا کروں، لیکن مجھے معلوم نہیں ہے کہ کتنی قضاء نمازیں ہیں ؟ دوسری بات یہ بتا دیں کہ قضاء نمازوں کی ترتیب کیا ہوگی؟ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو اگر قضاء نمازوں کی صحیح تعداد یاد نہ ہو ، تو غالب گمان سے قضاء نمازوں کی تعداد کا اندازہ لگائے اور اس کے مطابق فرائض و واجبات (وتر) کی ادائیگی شروع کر دے اور ہر قضاء نماز ادا کرتے وقت یہ نیت کرے کہ میری جو سب سے پہلی نماز قضاء ہو گئی تھی میں اس کی ادائیگی کرتا ہوں ، اور اگر سائل کی قضاء نمازوں کی تعداد چھ سے زیادہ ہو تو ان کو ترتیب سے ادا کرنا کوئی لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في حاشية الطحطاوي : خاتمة: من لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء اھ (ص: 447)۔
و فى الفتاوى الهندية : و لو ترك الظهر و العصر من يومين و لا يدري أيتهما ترك أولا تحرى فإن لم يكن له رأي يعيد ما أدى أولا مرة أخرى عند أبي حنيفة - رحمه الله - إذ يمكنه مراعاة الترتيب بطريق الاحتياط و الاحتياط واجب في العبادات و قالوا لا نأمره إلا بالتحري و يسقط عنه الترتيب اھ(1/ 124)۔
و فی الدر المختار : كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره اھ (2/ 76)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله كثرت الفوائت إلخ) مثاله : لو فاته صلاة الخميس و الجمعة و السبت فإذا قضاها لا بد من التعيين لأن فجر الخميس مثلا غير فجر الجمعة ، فإن أراد تسهيل الأمر ، يقول أول فجر مثلا ، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولا أو يقول آخر فجر اھ(2/ 76)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 33962کی تصدیق کریں
0     657
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات