میرا پیشاب کا مسئلہ ہے (کبھی کبھار قطرے آتے ہیں ، جب میں کھڑا ہوتا ہوں یا بیٹھنے کی کوشش کرتا ہوں ) اور میں ہر نماز سے پہلے وضو کرتا ہوں ، میرا سوال یہ ہے کہ اگر پیشاب کے قطرے میرے کپڑوں پر ہوں تو کیا میں ان کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہوں یا مجھے اپنے کپڑے تبدیل کرنے ہوں گے ؟ کیونکہ میں مجبور ہوں ، اکثر پیشاب کے قطرے آتے ہیں اور کپڑوں پر لگ جاتے ہیں ، براہِ مہربانی میرے سوال کا جواب دیں ۔جزاک اللہ۔
سائل کو اگر اس قدر تسلسل کے ساتھ قطر ے نہ آتے ہوں کہ اسے نماز کے پورے وقت میں فرض نماز کا وقت بھی نہ ملتا ہوں ، بلکہ کبھی کبھار قطرے آتے ہوں تو شرعاً سائل معذور کے حکم میں نہیں ہے ، اس لئے سائل کو چاہیئے کہ نماز کے وقت سے کافی دیر پہلے پیشاب کرکے صحیح طرح استنجاء کرکے مطمئن ہوجانے کے بعد نماز پڑھنے کا اہتمام کیا کرے اور اگر اس کے بعد بھی قطرے آئیں تو جس جگہ کپڑوں پر درہم کےپھیلاؤ کے بقدرپیشاب کے قطرے لگے ہوں اسے دھو کر پاک کرنا لازم ہے۔
کما فی الدر المختار : (و صاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب و كذا كل ما يخرج بوجع و لو من أذن و ثدي و سرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ و يصلي فيه خاليا عن الحدث (و لو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (و هذا شرط) العذر (في حق الابتداء و في) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) و لو مرة (و في) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه و نحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - {لدلوك الشمس} [الإسراء : 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي : ظهر حدثه السابق ، حتى لو توضأ على الانقطاع و دام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه اھ (1/305)۔