میں ایک شرعی معذور ہوں ، مجھے پیشاب کے بعد کافی دیر تک قطرے آتے ہیں اور کوئی ایک نماز کا مکمل وقت ایسا نہیں گزرتا کہ اس میں مکمل پاکی حاصل ہو ، میرا سوال کپڑوں کو پاک کرنے سے متعلق ہے ، براہِ مہربانی مکمل جواب ارسال کریں۔
۱۔ پیشاب کے قطرے اگر شلوار قمیص پہنے ہو ں تو شلوار پر گرتے ہیں ، اور پتہ بھی نہیں چلتا یقینی طور پر کہ کس جگہ پر گرے ، اور چونکہ کپڑے کے اوپر یہ پھیل جاتے ہیں تو مقدار بھی شاید ایک درہم سے زیادہ ہو ، تو ایسے میں کپڑے کیسے پاک کروں؟ میں اکثر باہر ہوتا ہوں کام کی وجہ سے ، تو میں ہر نماز سے پہلے کپڑے تبدیل بھی نہیں کر سکتا ؟
۲۔ جب میں دفتر میں پینٹ شرٹ پہن کر جاتا ہوں ،تو پینٹ کے نیچے انڈرویئر بھی پہننا ہوتا ہے ، قطرے اس پر گرتے ہیں ، اور آفس میں ہر نماز سے پہلے انڈرویئر تبدیل بھی نہیں کر سکتا ، براہِ مہربانی راہ نمائی فرما دیں ، میں کیا کروں؟
کیا ایسا شرعی لحاظ سے درست ہے کہ میں روزانہ ایک انڈرویئر پہنوں اور اس دن کی ساری نمازیں پڑھوں اور اگلے دن دوسرا انڈرویئر پہن لوں ؟ یعنی روزانہ نیا پہنوں اور پرانا دھو کر نیا کرو ں ، مگر ہر نماز سے پہلے ممکن نہیں کہ تبدیل کروں ؟ براہِ مہربانی مجھے مکمل شرعی حل کے ساتھ فتویٰ دیں کہ میں کیسے پاکی حاصل کروں جو پریکٹیل ممکن بھی ہو ، صرف اصول نہیں بتانا ، مجھے مکمل حل بتانا ہے ؟
اگر دفتر وغیرہ میں ، کسی مجبوری کی وجہ سے کپڑوں کا متاثرہ حصہ بھی ہر نماز کے وقت دھونا ممکن نہ ہو ، تو اس مشکل سے بچنے کے لۓ سائل کو چاہیۓ کہ انڈرویئر میں ٹشوپیپر رکھ لیا کرے اور ہر نماز کے وقت اسے اتار کر ، استنجاء کر کے دوبارہ صاف ٹشو رکھا کرے۔
فی الدر المختار : (و غسل طرف ثوب) أو بدن (أصابت نجاسة محلا منه و نسي) المحل (مطهر له و إن) وقع الغسل (بغير تحر) و هو المختار اھ (1/ 327)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله : و نسي المحل) بالبناء للمجهول ، ثم إن النسيان يقتضي سبق العلم و الظاهر أنه غير قيد و أنه لو علم أنه أصاب الثوب نجاسة و جهل محلها فالحكم كذلك و لذا عبر بعضهم بقوله " و اشتبه محلها " تأمل . (قوله : هو المختار) كذا في الخلاصة اھ (1/ 327)۔
و فی الفتاوى الهندية : مريض تحته ثياب نجسة إن كان بحال لا يبسط شيء إلا و يتنجس من ساعته يصلي على حاله و كذا إذا لم يتنجس الثاني لكن يلحقه زيادة مشقة بالتحويل ، كذا في فتاوى قاضي خان اھ (1/ 137)۔