احکام نماز

کرسی میں بیٹھ کر رکوع و سجود پر قادر کے لئے قیام کاحکم

فتوی نمبر :
33685
| تاریخ :
2018-04-02
عبادات / نماز / احکام نماز

کرسی میں بیٹھ کر رکوع و سجود پر قادر کے لئے قیام کاحکم

السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاتہ!
حضرت قرآن و احادیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ مساجد میں کرسیاں ہوتی ہیں نمازی حضرات کے لئے , کیا حکم ہے کہ وہ جماعت کے ساتھ کرسی پر بیٹھ کرنماز ادا کریں یا قیام لازم ہے ؟ اگر قیام کرتا ہے تو صف بندی نہیں ہوتی , کرسی وہ رکوع یا سجدہ میں عذر کی وجہ سے استعمال کرتا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جو شخص رکوع و سجدہ پر قادر نہ ہو تو اس کے لئے بہتر تو یہی ہے کہ زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کرے، بلاوجہ کرسی کا استعمال نہ کرے، تاہم اگر کوئی شخص واقعۃً زمین پر بیٹھ کر نماز نہ پڑھ سکتا ہو تو ایسی صورت میں کرسی کا استعمال کرنا بھی درست ہے جبکہ ایسے شخص پر قیام بھی لازم نہیں، بلکہ پوری نماز کرسی پر بیٹھ کرادا کرسکتا ہے، تاہم اگر کوئی شخص قیام کرنا چاہتا ہوتو ایسی صورت میں کرسی کا اگلا پایا صف کی لکیر پر رکھ کر نماز ادا کرے،تاکہ صف سیدھی رہے، لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا کہ کرسی صف کے کنارے رکھ کر نماز پڑھی جائے اس لئے بہتر یہی ہے کہ کرسیاں صف کے کنارے رکھ کر نماز ادا کی جائے، تا کہ صف بندی میں خلل واقع نہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الفقه الاسلامى وادلته: اذا عجز المريض عن القيام سقط عنه وصلى قاعداً كيف يسر له يركع ويسجد ان استطاع فان لم يستطع الركوع والسجود او السجود فقط أو ما ايماءً برأسه وجعل ايماءه للسجود أخفض من ركوعه تفرقة بينهما ، ولا يرفع الى وجهه شيئاً مثل الكرسى والوسادة يسجد عليه لنهيه صلى الله عليه وسلم عن ذالک اهـ ( ج ١ ص ٦٣٨)۔
وفيه ایضاً: يستحب للامام أن يأمر بتسوية الصفوف وسد الخلل (الثغرات)وتسوية المناكب لحديث أنس ام ج ۲ ص ۲۳۸) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 33685کی تصدیق کریں
0     542
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات