نجاسات اور پاکی

منی ، ودی اور مذی میں فرق اور ان کا حکم

فتوی نمبر :
33365
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

منی ، ودی اور مذی میں فرق اور ان کا حکم

منی ، ودی اور مذی میں کیا فرق ہے؟ اور ان میں غسل کس کس میں فرض ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پیشاب کے بعد جو لیس دار مادہ نکلتا ہے ، وہ "ودی" کہلاتا ہے اور بیوی سے ملاعبت کے وقت آلہ تناسل سے جو قطرے ظاہر ہوتے ہیں اور اس سے شہوت میں کمی کے بجائے اور اضافہ ہوتا ہے ، وہ "مذی" کہلاتی ہے اور دفق و شہوت کے ساتھ جو گاڑھا پانی نکلتا ہے اور اس کی وجہ سے شہوت اپنی انتہاء کو پہنچ جاتی ہے ، وہ "منی" کہلاتی ہے اور منی کے شہوت کے ساتھ کود کر نکلنے سے غسل فرض ہوجاتا ہے ، جبکہ باقی دونوں کے نکلنے سے صرف وضو لازم ہوتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوی الھندیة : المذي ينقض الوضوء و كذا الودي و المني إذا خرج من غير شهوة بأن حمل شيئا فسبقه المني أو سقط من مكان مرتفع يوجب الوضوء ، كذا في المحيط و مني الرجل خاثر أبيض رائحته كرائحة الطلع فيه لزوجة ينكسر الذكر عند خروجه و مني المرأة رقيق أصفر و المذي رقيق يضرب إلى البياض يبدو خروجه عند الملاعبة مع أهله بالشهوة و يقابله من المرأة القذي و الودي بول غليظ و قيل ماء يخرج بعد الاغتسال من الجماع و بعد البول ، كذا في التبيين اھ (1/10)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 33365کی تصدیق کریں
0     2068
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات