السلام علیکم ! میں ساؤتھ کوریا میں PHD کا سٹوڈنٹ ہوں، کچھ وقت سے مجھے چھوٹے پیشاب کے بعد قطرے بہت ٹائم آتے ہیں ، اتنے میں اکثر جماعت بھی چلی جاتی ہے ، ایسے میں وضو کو برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے اور کپڑوں پر بھی کبھی کبھی قطرے آجاتے ہیں ، میں صفائی کی بہت کوشش کرتا ہوں، ایسے حال میں نماز پڑھنا ٹھیک ہے یا نہیں؟ اور ایسے حال میں جماعت پڑھانا ٹھیک ہے یا نہیں ؟ پلیز رہنمائی فرمائیں ! تاکہ نماز صحیح طریقہ سے پڑھ سکوں۔جزاک اللہ۔
سائل کو چاہیئے کہ آذان سے کچھ دیر پہلے پیشاب وغیرہ سے فارغ ہوکر قطروں سے اطمینان کرلیا کرے ، پھر جب پیشاب کے قطروں سے اطمینان ہوجائے تو وضو کرکے جماعت میں شریک ہوجایا کرے ، اس طرح کرنے سے ان شاءاللہ جماعت بھی نہ نکلے گی اور تکلیف بھی کم ہوگی۔
کما فی رد المحتار : يلزم الرجل الاستبراء حتى يزول أثر البول و يطمئن قلبه و قال : عبرت باللزوم لكونه أقوى من الواجب ؛ لأن هذا يفوت الجواز لفوته فلا يصح له الشروع في الوضوء حتى يطمئن بزوال الرشح اهـ (1 /344)۔