نماز ہمارے دین کی پانچ اہم ترین اراکین میں سے ایک ہے ، یہ ہمارے لۓ بحیثیت امتیاز ہے ، مگر امت کے آپس کے جھگڑوں نے اس رکن کو بھی نہیں بخشا ،میں آج کل دو طرفہ پریشانی کا شدید شکار ہوں ، اہلِ سنت اور اہلِ حدیث دونوں کی نماز میں فرق ہے، دونوں ہی اپنے طریقوں کو صحیح اور دوسرے کو غلط کہتے ہیں ، دونوں ہی اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کے لۓ احادیث کا حوالہ دیتے ہیں اور دوسرے کے حوالہ کو ضعیف یا منسوخ کہتے ہیں ، ہم تو برباد ہو گئے، دنیا نے برباد کر دیا ،نہ حدیث کا علم ہے، نہ قرآن کا، ہم کہاں جائیں اور تو اور ،اہلِ بدعت بھی اپنی الٹی سیدھی حرکتوں کے جواز میں احادیث کا حوالہ دیتے ہیں، آپ کو اللہ کا واسطہ ! حق بات فرمائیے گا ، رفع یدین کریں یا نہ کریں، آمین زور سے بولیں یا نہ بولیں؟ برائے مہربانی تفصیل سے راہ نمائی فرمائیں گا۔
جاننا چاہیۓ کہ آنحضرت ﷺ سے رفعِ یدین اور اس کا ترک دونوں ثابت ہیں، دونوں جانب مرفوع احادیث اور دلائل موجود ہیں، اس لۓ جو شخص جس امام کا پیروکار ہو ، وہ اس کے مذہب کے مطابق اُن احادیثِ مبارکہ پر عمل کر سکتا ہے ، جبکہ یہ ایسے مسائل نہیں ، جن پر کفر اور اسلام کی بناء ہو یا کسی کو تارکِ سنت قرار دیکر فتنہ کھڑا کیا جائے، اس سلسلہ میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا یا نکیر کرنا شرعی احکام سے ناواقفیت پر مبنی عمل ہے ، اس لۓ سائل کو چاہیۓ کہ وہ اگر حنفی المسلک ہے تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مسلک کے مطابق ترکِ رفع یدین اور آہستہ آواز میں آمین کہے ، اور جو لوگ حنبلی مسلک کے ہوں جیسے مکہ، مدینہ کے لوگ ، وہ آمین بالجہر اور رفع یدین کرتے ہیں، ان پر نکیر نہ کرے، مگر مذاہبِ اربعہ کا بالکلیہ انکار نہ کرے ، جیسا کہ ہمارے زمانے کے اہلِ حدیث کہلانے والے غیر مقلد کرتے ہیں کہ یہ جہالت پر مبنی حرکت ہے۔
في اعلاء السنن : عن الأسود قال : رأيت عمر بن الخطاب يرفع يديه في أول تكبيرة ثم لا يعود . رواه الطحاوى و قال : و هو حديث صحيح . و في الدراية رجاله ثقات (۳/ ۴۸)۔
و ايضا فی اعلاء السنن : عن إبراهيم قال : "خمس يخفين : سبحانك اللهم و بحمدك ، و التعوذ ، و بسم الله الرحمن الرحيم ، و آمين ، و اللهم ربنا لك الحمد" . رواه عبد الرزاق فی مصنفه و اسنادہ صحیح آثار السنن و أخرجه الامام محمد بن الحسن في الآثار ، فرواه عن أبي حنيفة عن حماد عن ابراهيم قال : أربع يخافت بهن الإمام و لم يذكر اللهم ربنا لك الحمد . جامع مسانيد الامام . قلت و رجاله ثقات .
قال العلامة العثماني تحت الحديث : قوله يخفين الإمام الخ قال الشيخ : و ظاهره أن الإمام و المأموم حكمهما واحد فى هذا الباب فلما ثبت في الإمام ثبت في الماموم اھ (۲/ ۲۱۳)۔