نجاسات اور پاکی

منی ، مذی ، ودی کی تعریف اور ان کے احکام-ناخن کاٹنے کا مسنون طریقہ

فتوی نمبر :
3192
| تاریخ :
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

منی ، مذی ، ودی کی تعریف اور ان کے احکام-ناخن کاٹنے کا مسنون طریقہ

(۱) مسئلہ یہ ہے کہ میں منی، مذی، اور ودی کی تعریف جاننا چاہتی ہوں کیا یہ لڑکے ، لڑکیوں میں ایک جیسی ہی ہیں اور اگر ان میں سے کوئی چیز آپ کے کپڑوں کو ناپاک کردے تو کپڑوں کو پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
(۲)اگر کوئی خواب میں یہ دیکھے کہ سورج مغرب سے نکلا اور وہ یہ کہہ رہا ہو کہ توبہ کا دروازہ بند ہوگیا ، اس کی کیا تعبیر ہے؟ اس کے علاوہ اگر کوئی یہ دیکھے کہ سب لوگ حضرت محمد ﷺ کی زیارت کو جارہے ہیں مگر وہ مدینہ نہیں کوئی اور جگہ ہے ، پھر آپ پر نظری پڑی مگر پھر کسی دوست کا خیال آگیا یعنی پہلے والے تو کوئی داڑھی والے تھے مگر بعد میں کوئی دوست تھا۔
(۳) ناخن کاٹنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟
(۴) ناخن کاٹ کر کیا کریں؟ اگر رہائش لندن میں ہو تو فلش میں بہادے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(1) جی ہاں مرد اور عورت کی منی اور مذی باعتبارِ حکم کے ایک ہی ہیں کہ خروجِ منی باعثِ غسل ہے اور دوسری محض ناقض وضو ہے، جبکہ منی وہ گاڑھا بدبودار اور سفید مادہ ہوتا ہے ، جو بوقتِ شہوت کود کر نکلے ، اس کو نطفہ بھی کہتے ہیں اور یہ سببِ تولید ہوتا ہے۔
اور مذی وہ سفید اور لیس دار مادہ ہوتا ہے جو عموماً شہوت کے خیالات یا باتوں کی بناء پر نکلتا ہے ، یہ محض ناقض وضو ہوتا ہے، البتہ "ودی" صرف مردوں کو ہوتی ہے جو عموماً پیشاب کے بعد سفید اور گاڑھا سا مادہ ہوتا ہے یہ بھی ناقض وضو ہے، اگر یہ تینوں چیزیں کسی کپڑے کو لگ جائیں اور اس کو تین مرتبہ پاک صاف پانی میں دھو دیا جائے کہ نجاست کا اثر زائل ہوجائے تو کپڑا پاک ہوجاتا ہے۔
(2) ۱۔ ایسے شخص کو اپنے گناہوں پر بصدقِ دل توبہ واستغفار لازم ہے۔ ۲۔ ایسے شخص کو بکثرت اور توجہ سے درود شریف کا اہتمام کرنا چاہیۓ ، انشاء اللہ وہ ضرور زیارت نبی ﷺ سے محظوظ ہوگا۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم وعلمہ اتم
(3) آنحضرت ﷺ ہاتھ کے ناخن کٹوانے میں ترتیبِ ذیل ملحوظہ فرماتے: (سیدھا ہاتھ) شہادت کی انگلی ، بیچ کی انگلی ، اس کے برابر والی انگلی اور پھر چھنگلیا (پھر اُلٹا ہاتھ) چھنگلیا ، اس کے برابر والی ، بیچ کی انگلی ، شہادت کی انگلی ، انگوٹھا اور پھر دائیں ہاتھ کا انگوٹھا۔
جبکہ پاؤں کے ناخن کاٹنے میں حضور اکرم ﷺ ترتیبِ ذیل ملحوظ فرماتے (سیدھا پاؤں) چھنگلیا سے شروع فرماتے اور بالترتیب انگوٹھے تک ختم کرتے (پھر الٹا پاؤں) انگوٹھے سے شروع فرماتے اور بالترتیب چھنگلیا تک ختم فرماتے۔
(4)۔بہتر یہ ہے کہ ناخنوں کو کاٹنے کے بعد ان کو دفن کردے اور اگر ان کو کسی ایسی جگہ پھینک دیا جائے جو عام گزرگاہ وغیرہ سے ہٹ کر ہو ، تو بھی اس میں کوئی حرج نہیں لیکن فلش یا غسل خانہ میں پھینکنا مکروہ ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

و فی الشامیة : (قوله أو ودی) ماء ثخین ابیض كدر یخرج عقب البول . اهـ (ج۱، ص۱۶۵)۔
و فیه ایضًا : قوله ’’لا عند مذی‘‘ (الی قولہ) ماءٌ رقیق ابیض یخرج عند الشهوة لا بها . اهـ (ص ۱۶۵)۔
و فی الهدایة : و یجوز تطهیرها بالماء و بكل مائع طاهر یمكن ازالتها به كالخل و ماء الورد و نحو ذالك . اهـ (ج۱، ص۷۱)۔
و فی الشامیة : فاذا قلم أظفاره او جز شعره ینبغی ان یدفنه فان رمی به فلا باس و ان القاه فی الكنیف او فی المغتسل كره لانه یورث داء . اهـ (ج۶، ص۴۵۵)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسیب احمد حبیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 3192کی تصدیق کریں
| | | |
0     3135
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات