میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی بندے کو پیشاب کے کچھ دیر بعد ایک یا دو قطرے آتے ہوں تو وہ بندہ نماز سے پہلے استنجاء کرکے انہی کپڑوں میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ یا اسے دوسرے کپڑے پہننا ہوں گے؟ اور کیا اس کے کپڑے ناپاک ہوگئے اس طرح؟ یا اسلام میں ایسی بیماری کی حالت میں کوئی گنجائش ہے کہ اگر پیشاب کے قطرے لگ بھی جائیں تو وہ بندہ استنجاء کرکے نماز ادا کرسکتا ہے یا نہیں؟
پیشاب کے قطرے جہاں لگے ہوں تو ان کو دھونا لازم ہے ، تاہم سائل کو ایسی صورت درپیش ہو کہ ایک دو قطرے لگنے سے اس جگہ کا تعین کرنا اور دھونا ممکن نہ ہو تو ایسی حالت میں نماز پڑھنے سے نماز درست ادا ہوجائے گی۔
کما فی الدر المختار : (و عفا) الشارع (عن قدر درهم) و إن كره تحريما ، فيجب غسله و ما دونه تنزيها فيسن و فوقه مبطل فيفرض اھ (1/316)۔