مباحات

پرانے جائے نماز کو تلف کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

فتوی نمبر :
30713
| تاریخ :
2017-04-20
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

پرانے جائے نماز کو تلف کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

پرانے جائے نمازوں یعنی مصلیٰ کو تلف کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ اس کو جلانا ہے ، اگر جلانا صحیح ہو تو اس کے راک کا کیا حکم ہے؟ راہ نمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پرانے جائے نماز جو قابل استعمال نہ ہو، ان کو جلانے کے بعد اس کی راکھ کو کسی صاف جگہ ڈالنا چاہیے، تاکہ اس کی بے حرمتی نہ ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفتاوى الهندية: المصحف إذا صار خلقا لا يقرأ منه ويخاف أن يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويدفن، ودفنه أولى من وضعه موضعا يخاف أن يقع عليه النجاسة أو نحو ذلك ويلحد له؛ لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك (إلی قوله) لاحترامه، كحشيش المسجد وكناسته لا يلقى في موضع يخل بالتعظيم، كذا في القنية اھ (5/ 323)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ساجداللہ یاسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 30713کی تصدیق کریں
0     2283
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات