پرانے جائے نمازوں یعنی مصلیٰ کو تلف کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ اس کو جلانا ہے ، اگر جلانا صحیح ہو تو اس کے راک کا کیا حکم ہے؟ راہ نمائی فرمائیں۔
پرانے جائے نماز جو قابل استعمال نہ ہو، ان کو جلانے کے بعد اس کی راکھ کو کسی صاف جگہ ڈالنا چاہیے، تاکہ اس کی بے حرمتی نہ ہو۔
ففی الفتاوى الهندية: المصحف إذا صار خلقا لا يقرأ منه ويخاف أن يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويدفن، ودفنه أولى من وضعه موضعا يخاف أن يقع عليه النجاسة أو نحو ذلك ويلحد له؛ لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك (إلی قوله) لاحترامه، كحشيش المسجد وكناسته لا يلقى في موضع يخل بالتعظيم، كذا في القنية اھ (5/ 323)