اگر ایک بندہ پیشاب کرنے کے بعد صرف عضوِ تناسل کو دھولے ، تو کیا اس کا استنجاء ہوجائے گا یا آگے پیچھے دھونا لازمی ہے؟
اگر پیشاب کے قطرے صنفی عضو سے متجاوز نہ ہوئے ہوں ، تو خاص اسی عضو کا دھو لینا ہی کافی ہے ، اس کے علاوہ جگہ کا دھونا ضروری نہیں۔
کما فی الدر المختار : (و يجب) أي: يفرض غسله (إن جاوز المخرج نجس) مائع الخ
و فی رد المحتار : تحت(قوله : إن جاوز المخرج) يشمل الإحليل ، ففي التتارخانية : وإذا أصاب طرف الإحليل من البول أكثر من الدرهم يجب غسله هو الصحيح و لو مسحه بالمدر ، قيل يجزئه قياسا على المقعدة و قيل : لا و هو الصحيح اهـ (1/338)۔