اگر کسی شخص کو پیشاب کے قطرے آتے ہوں تو وہ نماز کیسے پڑھے اور اس کے لئے کیا حکم ہے پاکی اور ناپاکی کا ؟
اگر کسی شخص کو پیشاب کے قطرے اس قدر تسلسل کے ساتھ نہ آتے ہوں کہ پورے وقت میں اسے فرض نماز پڑھنے کا موقع ہی نہ ملتا ہو ، بلکہ کبھی کبھار پیشاب کے بعد کچھ دیر کے لئے اسے دو تین قطرے آجاتے ہوں تو اس کے لئےحکم یہ ہے کہ وہ پیشاب کرنے کے بعد خوب اطمینان کرلیا کرے اور کوشش کرے کہ نماز سے اتنی دیر پہلے فارغ ہوجایا کرے کہ جس میں قطرے آنا بند ہوجائیں پھر اس کے بعد وضو کرکے نماز ادا کرے۔
کما فی الدر المختار : يجب رد عذره أو تقليله بقدر قدرته و لو بصلاته موميا و برده لا يبقى ذا عذر بخلاف الحائض الخ
و فی رد المحتار : تحت (قوله : و برده لا يبقى ذا عذر) قال في البحر: و متى قدر المعذور على رد السيلان برباط أو حشو أو كان لو جلس لا يسيل و لو قام سال و جب رده و خرج برده عن أن يكون صاحب عذر اھ (1/308)۔