نجاسات اور پاکی

بواسیری مسوں سے نکلنے والے پانی کا حکم

فتوی نمبر :
29342
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

بواسیری مسوں سے نکلنے والے پانی کا حکم

بواسیری مسوں سے نکلنے والا پانی پاک ہے یا ناپاک ؟ کیا ایسی حالت میں امامت کی جاسکتی ہے ؟اگر کوئی اور شرعی امام موجود نہ ہو ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بواسیری مسوں سے نکلنے والا پانی ناپاک اور ناقضِ وضو ہے ، اس لئے اگر مذکور شخص اس عذر کی وجہ سے معذور کے حکم میں داخل ہوا ہو تو ایسی حالت میں خود اس کی نماز تو ادا ہوجائے گی ، مگر غیر معذور اور تندرست لوگوں کو امامت کرنا اس کے لئے جائز نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (و كذا لا يصح الاقتداء بمجنون مطبق أو متقطع في غير حالة إفاقته و سكران) أو معتوه ذكره الحلبي (و لا طاهر بمعذور) الخ(1/578)۔
و فی الفتاوی الھندیة : الدم والقيح و الصديد و ماء الجرح والنفطة و السرة والثدی الثدي و العين و الأذن لعلة سواء ، على الأصح كذا في الزاهدي اھ (1/10)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 29342کی تصدیق کریں
0     566
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات