میں نے آج صبح کی نماز ترک کردی، ابھی ظہر کا وقت ہے اور جماعت کھڑی ہے کیا میں پہلے امام کے ساتھ ظہر کی نماز ادا کروں گا یا ایک طرف ہوکر پہلے فجرکی نماز پڑھوں گا اور پھر جماعت میں شریک ہوں گا؟
سائل اگر صاحب ترتیب ہے، یعنی اس کے ذمہ خاص اس دن کی فجر کی نماز باقی ہو یا اس کے علاوہ بھی کچھ نمازیں باقی ہوں، لیکن کل نمازیں پانچ یا اس سے کم ہوں،تو ایسی صورت میں سائل پر لازم ہے کہ جماعت سے الگ ہو کر ایک کونے میں پہلے اپنی فجر کی نماز قضا پڑھ لے، پھر ظہر کی نماز پڑھ لے۔
اور اگر سائل کے ذمہ چھ نمازیں یا اس سے زیادہ قضا نمازیں ہوں تو پھر ایسی صورت میں پہلے ظہر کی جماعت میں شریک ہو جائے، پھر اس کے بعد فجر کی قضا شدہ نماز پڑھ لے۔
ففي الفتاوى الهندية: الترتيب بين الفائتة والوقتية وبين الفوائت مستحق، كذا في الكافي حتى لا يجوز أداء الوقتية قبل قضاء الفائتة، كذا في محيط السرخسي. وكذا بين الفرض والوتر، هكذا في شرح الوقاية.وفيه أيضا ويسقط الترتيب عند كثرة الفوائت وهو الصحيح، هكذا في محيط السرخسي وحد الكثرة أن تصير الفوائت ستا بخروج وقت الصلاة السادسة وعن محمد - رحمه الله تعالى - أنه اعتبر دخول وقت السادسة، والأول هو الصحيح، كذا في الهداية. (121/1)۔