السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ : مجھے بیت الخلاء سے فارغ ہوجانے کے تھوڑا چلنے پھرنے کےبعد پیشاب کے چند قطرے آتے ہیں ، پھر ختم ہوجاتے ہیں ، تسلسل نہیں رہتا ، وضو سے پہلے آجائے تو دوبارہ استنجاء کرنا ضروری ہے ؟ اور کپڑوں کا کیا حکم ہے ؟ ان کے ساتھ نماز ہو جائے گی ؟ اگر جماعت کا وقت ہو گیا ہو اور اس کے نکل جانے کا اندیشہ بھی ہو ؟ وضو کے بعد آجائے تو کیا حکم ہے ؟ گھر سے دور ہونے کی وجہ سے کپڑے دھونا یا تبدیل کرنا ممکن نہ ہو تو ؟
اگر پیشاب کے قطرے اس قدر تسلسل سے نہ نکلتے ہوں کہ پورے نماز کے وقت کو گھیر لیں اور سائل کو اتنا وقت مل جاتا ہو کہ وہ آسانی سے فرض نماز کی ادائیگی کر سکتا ہو تو وہ شرعاً معذور نہیں ہے، ایسی صورت میں اس پر کپڑوں اور بدن کا دھونا لازم ہے ، انہیں دھوئے بغیر سائل نماز ادا نہ کرے ، جبکہ سائل کو چاہیئے کہ نماز کے وقت اتنی دیر پہلے سے فارغ ہونے کی کوشش کرے کہ جس میں قطرے آنا بند ہو جائیں اور اس کے بعد وضو کر کے نماز پڑھ لیا کرے۔
کما فى نور الايضاح : و لا يصير معذوراً حتى يستوعب العذر وقتأ كاملا ليس فيه الانقطاع بقدر الوضوء والصلاة اھ (ص/ 53)۔
و فيه ايضاً : و شرط دوام العذر موجوده في كل وقت بعد ذلك و لومرة و شرط انقطاعه و خروج صاحب عن كون معذوراً : خلو وقت كامل عنه اهـ (ص/ 54)