نجاسات اور پاکی

نجاست کو دھونے کے بعد رہ جانے والے نشانات اور دھبوں کا حکم

فتوی نمبر :
28551
| تاریخ :
2016-10-04
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

نجاست کو دھونے کے بعد رہ جانے والے نشانات اور دھبوں کا حکم

جن کپڑوں پر ماہواری کے داغ لگ جائیں انہیں پاک کرکے نماز پڑھی جاسکتی ہے؟ جبکہ کپڑے پر داغ موجود ہوں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں کپڑوں کے ماہواری کا خون دھونے اور زائل کرنے کے بعد اگر اس کا داغ رہ جائے تو بھی وہ کپڑے پاک شمار ہوں گے اور اس میں نماز پڑھنا درست اور جائز ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی البحر الرائق: والمراد بالأثر اللون والریح فان شق ازالتها سقطت وتفسير المشقة ان يحتاج فى ازالته الى استعمال غير الماء کا لصابون والأشنان او الماء المغلى بالنار كذا في السراج (٢١٠/١)
وفي الهندية: ان غسل ثلاثا فعصر في كل مرة ثم تقاطرت منه قطرة فاصابت شياً ان عصره في المرة الثالثة وبالغ فيه بحيث لو عصره لا يسيل منه الماء فالثوب واليد وما تقاطر طاھر والافالکل نجس الخ (۴۲/۱)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 28551کی تصدیق کریں
0     966
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات