میرے کپڑوں پر نو ماہ کے بچے نے پیشاب کردیا تھا ، پھر میں بھول گیا اور انہی کپڑوں کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھ لی ، میری نماز ہوگئی یا مجھے قضاء لوٹانی پڑے گی؟
سائل کے کپڑوں پر اگر قدرِ درہم (ہاتھ کی ہتھیلی کے درمیانی حصہ کے بقدر) یا زائد پیشاب لگا ہو اور نماز فرض ہو تو سائل کی نماز نہیں ہوئی ، اس نماز کی قضاء سائل پر لازم ہے ، تاہم اگر اس مقدار سے کم پیشاب لگا ہو اور اس کا علم بھی بعد میں ہوا ہو ، تو اب اس نماز کا اعادہ لازم نہیں۔
و فی الفتاوی الھندیة : تطهير النجاسة من بدن المصلي و ثوبه والمكان الذي يصلي عليه واجب ، هكذا في الزاهدي (الیٰ قوله) النجاسة إن كانت غليظة و هي أكثر من قدر الدرهم فغسلها فريضة و الصلاة بها باطلة و إن كانت مقدار درهم فغسلها واجب و الصلاة معها جائزة و إن كانت أقل من الدرهم فغسلها سنة اھ (1/58)۔