نجاسات اور پاکی

شیر خوار بچہ کپڑوں پر پیشاب کردے تو کپڑوں کا حکم

فتوی نمبر :
28396
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

شیر خوار بچہ کپڑوں پر پیشاب کردے تو کپڑوں کا حکم

میرے کپڑوں پر نو ماہ کے بچے نے پیشاب کردیا تھا ، پھر میں بھول گیا اور انہی کپڑوں کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھ لی ، میری نماز ہوگئی یا مجھے قضاء لوٹانی پڑے گی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے کپڑوں پر اگر قدرِ درہم (ہاتھ کی ہتھیلی کے درمیانی حصہ کے بقدر) یا زائد پیشاب لگا ہو اور نماز فرض ہو تو سائل کی نماز نہیں ہوئی ، اس نماز کی قضاء سائل پر لازم ہے ، تاہم اگر اس مقدار سے کم پیشاب لگا ہو اور اس کا علم بھی بعد میں ہوا ہو ، تو اب اس نماز کا اعادہ لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

و فی الفتاوی الھندیة : تطهير النجاسة من بدن المصلي و ثوبه والمكان الذي يصلي عليه واجب ، هكذا في الزاهدي (الیٰ قوله) النجاسة إن كانت غليظة و هي أكثر من قدر الدرهم فغسلها فريضة و الصلاة بها باطلة و إن كانت مقدار درهم فغسلها واجب و الصلاة معها جائزة و إن كانت أقل من الدرهم فغسلها سنة اھ (1/58)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 28396کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات