جب کسی کو صدقہ دیں تو کیا انہیں بتانا ضروی ہے کہ ہم آپ کو صدقہ دے رہے ہیں، اکثر لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے، مگر اگر انہیں بتادو کہ یہ ہم صدقہ دے رہے ہیں تو وہ برا مان جاتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمدردی میں دے دیجیے، صدقہ کے نام سے نہ دیجیے۔
جس کو صدقہ دیا جائے اس کا بتانا ضروری نہیں بلکہ صرف دل میں نیت ہونا کافی ہے خصوصاً جب صراحت کرکے دیدینے کو وہ شخص برا بھی محسوس کرتاہو۔
کما فی قولہ تعالٰی: ﴿ان تبدو الصّدقات فنعمّاہی وان تخفوہا وتؤتوہا الفقراء فہو خیر لکم ویکفّر عنکم من سیّاٰتکم﴾ (البقرۃ: آیت: ۲۷۱)
وفی صحیح مسلم: عن ابی ہریرۃ عن النبیﷺ قال سبعۃ یظلہم اللہ فی ظلہ یوم لا ظل الّا ظلہ (الی قولہ) ورجل تصدق بصدقۃ فاخفاہا حتی لا تعلم یمینہ ما تنفق شمالہ الخ (۱/ ۳۳۱)
وفی رد المحتار: تحت (قولہ نیۃ) أشار إلی أنہ لا اعتبار للتسمیۃ فلو سماھا ہبۃ أو قرضا تجزیہ فی الأصح (۲/ ۲۶۸)
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: لا حاجۃ لا علام الفقیر بکون المدفوع لہ ہوالزکاۃ. (۲/ ۸۹۹) واللہ اعلم بالصواب