نجاسات اور پاکی

کبھی کبھار پشاب کےقطرے آنے والے شخص کی نماز کا حکم

فتوی نمبر :
27651
| تاریخ :
2016-01-11
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

کبھی کبھار پشاب کےقطرے آنے والے شخص کی نماز کا حکم

مجھے نماز پڑھنے کا بہت دل کرتا ہے، مگر مجھے قطروں کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے نماز نہیں پڑھ پاتا، عموماً میں نماز سے پہلے پیشاب کرکے انڈروئیر میں ٹشو رکھ کر وضو کرکے نماز ادا کر لیتا ہوں اور اگلی نماز سے پہلے اسی طرح ٹشو تبدیل کرکے وضو کرکے پڑھ لیتا ہوں، مگر اب کئی بار ٹشو نہیں ہوتا یا پھر گھر سے باہر ہوتا ہوں تو اب کیا پرانے ٹشو کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہوں یا پھر ایک دفعہ ٹشو تبدیل کرکے دو وقت کی نماز پڑھ سکتا ہوں، اب بار بار ٹشو تبدیل کرنا بھی مشکل ہوجاتاہے اور اب کپڑے بار بار بدلنے یا دھونے بھی مشکل ہے، تو انڈرویئر میں ٹشو رکھ لیتا ہوں اور نماز سے پہلے تبدیل کر لیتا ہوں، لیکن اب اگلی نماز اگر پیشاب کی حاجت نہ ہو تو کیا پچھلے ٹشو کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہوں؟ از راہ کرم رہنمائی فرمائیں اور اگر کوئی اور طریقہ ہو تو اس بھی اگاہ فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال کی صورت سے معلوم ہوتا ہے کہ سائل معذور نہیں بلکہ کبھی کبھار آنے کی شکایت ہے، اس لیے ایک ٹشو رکھنے کےبعد اگر قطرہ نہ آنے کا یقین یا غالب گمان ہوتو دوسری نماز بھی اس حالت میں پڑھنا جائز ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: وان سال علیٰ ثوبہ فوق الدراھم جاز لہ ان لا یغسلہ ان کان لو غسلہ تنجس قبل الفراع منھا ای الصلاہ و الا یتنجس قبل فراغہ فلا یجوز ترک غسلہ ھو المختار للفتویٰ۔(306/1)۔
وفی الھندیة: اذا کان بہ جرح سائل وقد شد علیہ حرقہ فاصابھا الدم اکثر من قدر الدرھم اذا اصاب ثوبہ ان کان بحال لو غسلہ یتنجس ثانیا قبل الفراع من الصلاہ جاز لہ ان لا یغسلہ وصلیٰ قبل ان یغسلہ والا فلا ھذا ھو المختار۔(41/1)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 27651کی تصدیق کریں
0     641
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات