السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ زیرِ ناف بال خود صاف کرنا لازمی ہے یا کسی سے کروا بھی سکتے ہیں؟ جیسا کہ بیوی شوہر کے بال صاف کرسکتی ہے؟ یا کسی بوڑھے آدمی کے بال کوئی اور بندہ صاف کرسکتا ہے؟ براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔شکریہ۔
مرد کے لئے اپنے زیرِ ناف بال خود صاف کرنا مسنون ہے،تاہم اگر بڑھاپے وغیرہ جیسے کسی عذر کی بناء پر خود صاف کرنا ممکن نہ ہو تو بامر مجبوری کسی دوسرے ، بیوی وغیرہ سے صاف کرانے کی گنجائش ہے،لیکن بیوی کے علاوہ کسی غیر سے صاف کرانے کی صورت میں حتیٰ الوسع نظر اور مس سے احتیاط ضروری ہے۔
وفی رد المحتار: وينبغي أن يتولى طلي عورته بيده، دون الخادم هو الصحيح لأن ما لا يجوز النظر إليه لا يجوز مسه إلا فوق الثياب وعن ابن مقاتل لا بأس أن يطلي عورة غيره بالنورة كالختان ويغض بصره اهـ قلت: وفي التتارخانية قال الفقيه أبو الليث هذا في حالة الضرورة لا غير اھ (6/382)۔
وفی البحر الرائق: وفی جامع الجوامع : حلق العانة بیدہ وان حلق الحجام جاز اذا غض بصرہ اھ (8/205)۔