احکام نماز

گیس ، بجلی کے ہیٹراور چولہے کے سامنے نمازپڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
2741
| تاریخ :
2006-12-26
عبادات / نماز / احکام نماز

گیس ، بجلی کے ہیٹراور چولہے کے سامنے نمازپڑھنے کا حکم

السلام علیکم! آج کل مسجدوں میں سردی کی وجہ سے گیس اور بجلی کے ہیٹر استعمال ہو رہے ہیں اور اکثر اوقات ہیٹر نمازی کے سامنے ہوتا ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ ہیٹر کے سامنے نماز پڑھنا جائز ہے؟ کیا یہ آگ کی پرتستش کے مشابہ نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر بجلی اور گیس کے ہیٹر موضعِ سجود کی بجائے دیوار میں نصب ہوں جیسا کہ عموماً مسجدوں میں یہی طریق مروّج ہے، اس کے سامنے رہنے میں شرعاً کوئی کراہت وغیرہ نہیں اور یہ آگ کی پرستش کے مشابہ بھی نہیں، البتہ کسی ہیٹر کے فرش پر رکھے ہونے اور منفرداً نماز پڑھنے کی صورت میں اُس کے سامنے کھڑا ہونے سے احتراز چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفتاوى الهندية: ومن توجه في صلاته إلى تنور فيه نار تتوقد أو كانون فيه نار يكره ولو توجه إلى قنديل أو إلى سراج لم يكره. كذا في محيط السرخسي وهو الأصح. كذا في خزانة الفتاوى. (1/ 108)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
رضوان اللہ شریف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 2741کی تصدیق کریں
0     739
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات