السلام علیکم! آج کل مسجدوں میں سردی کی وجہ سے گیس اور بجلی کے ہیٹر استعمال ہو رہے ہیں اور اکثر اوقات ہیٹر نمازی کے سامنے ہوتا ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ ہیٹر کے سامنے نماز پڑھنا جائز ہے؟ کیا یہ آگ کی پرتستش کے مشابہ نہیں؟
اگر بجلی اور گیس کے ہیٹر موضعِ سجود کی بجائے دیوار میں نصب ہوں جیسا کہ عموماً مسجدوں میں یہی طریق مروّج ہے، اس کے سامنے رہنے میں شرعاً کوئی کراہت وغیرہ نہیں اور یہ آگ کی پرستش کے مشابہ بھی نہیں، البتہ کسی ہیٹر کے فرش پر رکھے ہونے اور منفرداً نماز پڑھنے کی صورت میں اُس کے سامنے کھڑا ہونے سے احتراز چاہیے۔
ففی الفتاوى الهندية: ومن توجه في صلاته إلى تنور فيه نار تتوقد أو كانون فيه نار يكره ولو توجه إلى قنديل أو إلى سراج لم يكره. كذا في محيط السرخسي وهو الأصح. كذا في خزانة الفتاوى. (1/ 108)