۱۔ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان کرام کہ ہماری طرف یہ مشہور ہے کہ اگر کسی کی بیٹیاں یا بیٹے پیدا ہو جائے تو لوگ کہتے ہیں کہ اولاد شوہر کی طرف سے ہوتے ہیں اور مال و دولت بیوی کی طرف سے تقدیر میں آتی ہے، کیا اس بات کی شریعت میں کوئی اصل ہے ؟ امید ہے کہ میرا سوال واضح ہو۔
2 : نرینہ اولاد کے لیے کوئی مجرب اور آسان سا عمل یا وظیفہ تجویز فرما دیجیے اور خصوصی دعا کی بھی گزارش ہے وقت دینے کے لیے شکریہ اور جزاک اللہ خیرا۔
1۔اولاد،دونوں میاں بیوی کی طرف سے ہوتی ہے، اگرچہ نسب باپ کا شمار ہے ،جبکہ مال ہر انسان کو اس کے مقدر کا ملتا ہے البتہ احادیث مبارکہ کی روشنی میں نفس نکاح ہی باعث برکت ہے ۔
2۔سائل کو چاہیے کہ تمام گناہوں سے توبہ کر کے پنچگانہ نمازوں اور اوامر کی بجا آوری اور نواہی سے بچنے کا اہتمام کرے اور اللہ تعالیٰ سے حصول اولاد نرینہ کے متعلق دعا بھی کرتا رہے کیونکہ وہی مسبب الاسباب ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سورہ یوسف لکھ کر عورت تعویذ باندھے ان شاء اللہ فرزند نیک پیدا ہو گا ۔ (اعمال قرآنی ص ۱۶۳) واللہ اعلم
ففي صحيح البخاري: قال عبد الله: حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو الصادق المصدوق، قال: " إن أحدكم يجمع خلقه في بطن أمه أربعين يوما، ثم يكون علقة مثل ذلك، ثم يكون مضغة مثل ذلك، ثم يبعث الله ملكا فيؤمر بأربع كلمات، ويقال له: اكتب عمله، ورزقه، وأجله، وشقي أو سعيد اھ (4/ 111)
و في تفسير ابن كثير: قال تعالى: إن يكونوا فقراء يغنهم الله من فضله وعن ابن مسعود: التمسوا الغنى في النكاح. يقول الله تعالى: إن يكونوا فقراء يغنهم الله من فضله رواه ابن جرير، وذكر البغوي عن عمر بنحوه. (6/ 48)