مجھے پیشاب کے قطرے آتے ہیں ، جب بھی فراغت کے بعد وضو کرتا ہوں تو دورانِ نماز کچھ قطرے آجاتے ہیں ، میں بہت پریشان ہوں ، یہ تو میں جانتا ہوں کہ نماز تو پھر بھی پڑھنی ہے ، میری مدد فرمائیں ،تاکہ میں فرائض کو انجام دے سکوں ، ادھر سعودیہ میں، میں کسی سے بھی نہیں پوچھ سکا،پردہ داری کی بھی درخواست ہے۔
سائل کو چاہیئے کہ قضاءِ حاجت کے بعد تھوڑا سا چلے ، تاکہ پیشاب کے سارے قطرے نکلنے کا یقین ہوجائے اور مزید نہ آنے کا اطمینان ہو تو اس کے بعد وضو کرکے نماز پڑھ لیا کرے۔
كما في الدر المختار : يجب الاستبراء بمشيأ و تنحنح أو نوم على شقه الأيسر و يختلف بطباع الناس الخ
و فی رد المحتار : تحت (قوله: يجب الاستبراء إلخ) هو طلب البراءة من الخارج بشيء مما ذكره الشارح حتى يستيقن بزوال الأثر اھ (1/344)۔
و فی الفتاوی الھندیة : و الاستبراء واجب حتى يستقر قلبه على انقطاع العود ، كذا في الظهيرية اھ (1/49)۔