مفتی صاحب ! میرا سوال یہ ہے کہ اکثر اوقات ہوا خارج ہوتی رہتی ہے ، زیادہ تر نماز میں ہوتی ہے ، تو کیا وضوء کیلئے جانا چاہیئے یا اس وقت کی نماز پڑھی جائے ، بعض مرتبہ یہ ہوتا ہے کہ اگر وضوء کرکے نکلوں تو فوراً ہوا خارج ہو جاتی ہے۔
اگر خروجِ ریح کی تکلیف اس قدر تسلسل سے ہو کہ کسی ایک نماز کے پورے وقت میں بھی اتنا وقت نہ ملتا ہو کہ طہارتِ کاملہ کے ساتھ صرف فرض نماز پڑھ سکے تو سائل شرعاً معذور ہے اور معذور کا حکم یہ ہے کہ ہر نماز کے وقت کے لئے الگ سے وضوء کرلیا کرے اور اس وقت میں فرض نفل ہر طرح کی نمازیں اس وضوء سے ادا کرسکتا ہے اور اس دوران ہوا نکلنے کی وجہ سے اس کا وضوء بھی نہیں ٹوٹے گا ہاں اگر کوئی دوسرا ناقضِ وضوء پیش آ گیا یا وقت ختم ہو ، تو اس کا وضوء ٹوٹ جائے گا اور دوبارہ وضوء کرنا لازم ہوگا۔
کما فی الدر المختار : (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ و يصلي فيه خاليا عن الحدث (و لو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (و هذا شرط) العذر (في حق الابتداء و في) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) و لو مرة (و في) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل (و حكمه الوضوء) لا غسل ثوبه و نحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - {لدلوك الشمس} [الإسراء : 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) اھ (1/306)۔