نجاسات اور پاکی

گیلے پاؤں ناپاک کارپٹ پر جانا

فتوی نمبر :
27171
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

گیلے پاؤں ناپاک کارپٹ پر جانا

السلام علیکم! جناب مفتی صاحب میرے کو ایک مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ میرے کمرے میں ہمارے بچے بھی رہتے ہیں ، وہ کبھی ادھر کبھی ادھر پیشاب کرتے ہیں ، اب مسئلہ یہ ہے کہ جب میں وضو کرکے باتھ روم سے باہر نکل آؤں ، کیا میں گیلے پاؤں اس کار پٹ پر جاسکتا ہوں ؟میرا پاؤں ناپاک تو نہیں ہوتا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کارپٹ اگر بالکل خشک ہوگیا ہو اور اس میں متعین جگہ بھی معلوم نہ ہو کہ کہاں بچے نے پیشاب کیا تھا تو محض کارپٹ پر چلنے کی وجہ سے پاؤں ناپاک نہیں ہوں گے ، بلاوجہ وہم کرنے کی ضرورت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : نام أو مشى على نجاسة ، إن ظهر عينها تنجس و إلا لا الخ
و فی رد المحتار : تحت(قوله : نام) أي : فعرق و قوله : أو مشى : أي : وقدمه مبتلة. (قوله : على نجاسة) أي : يابسة لما في متن الملتقى لو وضع ثوبا رطبا على ما طين بطين نجس جاف لا ينجس ، قال الشارح : لأن بالجفاف تنجذب رطوبة الثوب من غير عكس بخلاف ما إذا كان الطين رطبا. اهـ. (قوله : إن ظهر عينها) المراد بالعين ما يشمل الأثر ؛ لأنه دليل على وجودها اھ (1/346)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 27171کی تصدیق کریں
0     899
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات