نجاسات اور پاکی

پیشاب کے بعد لیس دار پانی نکلنے والے شخص کے لیے نماز پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
27123
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

پیشاب کے بعد لیس دار پانی نکلنے والے شخص کے لیے نماز پڑھنے کا حکم

مجھے قطرے اکثر نظر آتے ہیں تو ایسی صورت میں نماز کے متعلق کیا حکم ہے؟ اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ پیشاب کے بعد لیس دار پانی نکل جاتا ہے اور آدھے گھنٹے تک آتا رہتا ہے اور جتنا صاف کروں رکتا نہیں ہے ، تو ایسی صورت میں نماز کا کیا حکم ہے ؟ یہ بھی بتا دیں کہ میری نماز کبھی کبھار قضاء ہوجاتی ہے تو صبح کے وقت بھی یہ مسئلہ ہوتا ہے اور رات میں بھی ، میں بار بار کپڑے بدلتا ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے بیان کے مطابق وہ شرعاً معذور نہیں ہے ، اس لئے سائل کو چاہیئے کہ پیشاب کے بعد جب مذکور لیس دار مادہ رک جانے کا مکمل اطمینان ہوجائے تو وضو کرکے نماز پڑھ لیا کرے ، اگرچہ جماعت کے بغیر ہی کیوں نہ ہو اور نماز قضاء ہونے کی صورت میں بھی اس کا اہتمام کیا کرے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (و صاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب و كذا كل ما يخرج بوجع و لو من أذن و ثدي و سرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ و يصلي فيه خاليا عن الحدث (و لو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (و هذا شرط) العذر (في حق الابتداء و في) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) و لو مرة (و في) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل (و حكمه الوضوء) لا غسل ثوبه و نحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - {لدلوك الشمس} [الإسراء : 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا و نفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي : ظهر حدثه السابق اھ (1/305)۔
و فیه ایضاً : ثمرته تظهر في الإثم بتركها مرة (على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج) و لو فاتته ندب طلبها في مسجد آخر إلا المسجد الحرام و نحوه (فلا تجب على مريض و مقعد و زمن ومقطوع يد و رجل من خلاف) أو رجل فقط اھ (1/354)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 27123کی تصدیق کریں
0     1141
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات