کیاہم دو نمازوں کو جمع کر سکتے ہیں ؟ اگر ہاں !تو کیا ہم عصر کا وقت شروع ہونے سے پہلے اسے ظہر کی نماز کے ساتھ جمع کر کے پڑھ سکتے ہیں ؟ یا عشاء کے وقت سے پہلے مغرب اور عشاء کو جمع کر سکتے ہیں؟ جب ظہر کا وقت شروع ہو جائے تو عصر کو ہم اس کے ساتھ ملاتے ہیں، اسی طرح عشاء کا وقت شروع ہو جائے تو مغرب کی نماز کو ہم اس کے ساتھ ملاتے ہیں،جیسا کہ مکہ جاتے وقت بھی بس اسٹاپ پر رک کردو نمازوں کو ایک ساتھ ایک ہی وقت میں ادا کیا جاتا ہے، میراٹرانسپورٹ پر کنٹرول نہیں ہے کہ میں انہیں رکوا کر نماز ادا کر سکوں۔
عند الأحناف حج کے موقع پر عرفات اور مزدلفہ کے علاوہ باقی کسی وقت بھی دو نمازوں کو بلا عذر ایک وقت میں پڑھنا جائز نہیں ، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ سفر وغیرہ کیوجہ سے مجبوری ہو تو ایک نماز کو آخروقت میں پڑھا جائے اور نماز ختم ہوتے ہی جب وقت ختم ہو تو دوسری نماز کو اوّل وقت میں پڑھ سکتے ہیں ، اس کو" جمعِ صوری" کہتے ہیں کہ بظاہر تو جمع ہو گا ،لیکن حقیقتاً جمع بین الصلاتین نہ ہوگا ۔
کما فی الدر المختار : (ولا جمع بين فرضين في وقت بعذر) سفر ومطر خلافا للشافعي، وما رواه محمول على الجمع فعلا لا وقتا (فإن جمع فسد لو قدم) اھ ۔
و فی رد المحتار تحت : (قوله: محمول إلخ) أي ما رواه مما يدل على التأخير محمول على الجمع فعلا لا وقتا: أي فعل الأولى في آخر وقتها والثانية في أول وقتها، اھ(2/381)۔