نجاسات اور پاکی

بلی کے جوٹھے کا حکم

فتوی نمبر :
26709
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

بلی کے جوٹھے کا حکم

السلام علیکم ! مفتی صاحب سلام کے بعد عرض یہ ہے کہ بلی ہمارے گھر میں اکثر آتی جاتی ہے ،اور دودھ میں اکثر منہ مار کر چلی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے میری امی وہ چیزیں گرا دیتی ہے ، بلی کے جوٹھا کے بار ے میں کیا حکم ہے؟ پاک ہے یا نجس؟ اور ہمارے گھر میں چوہے وغیرہ بھی کھاتی ہے ۔ جزاکم اللہ أحسن الجزاء!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بلی کا جُو ٹھا بضرورت پاک ہے ، اس کا استعمال بھی جائز اور حلال ہے ، البتہ بلی نے اسی وقت چوہا یا کوئی نجس چیز کھائی ہو ،اور فوراً دودھ وغیرہ پہ منہ مار لیا ہو ، تو ایسی صورت میں دودھ وغیرہ ناپاک ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (و هرة فور أكل فأرة نجس) مغلظ (و) سؤر هرة (و دجاجة مخلاة) و إبل و بقر جلالة (الیٰ قوله) (و سواكن بيوت) طاهر للضرورة (مكروه) تنزيها في الأصح الخ
و فی رد المحتار: تحت (قوله طاهر للضرورة) بيان ذلك أن القياس في الهرة نجاسة سؤرها ؛ لأنه مختلط بلعابها المتولد من لحمها النجس ، لكن سقط حكم النجاسة اتفاقا بعلة الطواف المنصوصة بقوله - صلى الله عليه وسلم - إنها ليست بنجسة ، إنها من الطوافين عليكم و الطوافات " أخرجه أصحاب السنن الأربعة وغيرهم و قال الترمذي حسن صحيح اھ (1/ 224)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 26709کی تصدیق کریں
0     868
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات