نجاسات اور پاکی

قطروں کا معذور شخص جمعہ چھوڑ سکتا ہے ؟

فتوی نمبر :
25326
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

قطروں کا معذور شخص جمعہ چھوڑ سکتا ہے ؟

ایک آدمی جس کی عمر تقریباً 70 سال سے زیادہ ہے ، مسئلہ یہ ہے کہ وضو کے بعد تھوڑی مقدار میں پیشاب نکل جاتا ہے ،جس سے کپڑوں میں گیلا پن ظاہر ہوتا ہے اور ذیادہ دیر تک انتظار نہیں کرسکتا ، اب یہ آدمی جمعہ کی نماز کے لئے مسجد نہ جائے تو اس کے لئے شریعت میں کوئی گنجائش ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

شخصِ مذکور کو قطروں کی شکایت اگر اس قدر ہو کہ وضو کرکے طہارت کے ساتھ وقت کی فرض نماز بھی فرض طریقہ سے پڑھنا ممکن نہ ہو تو مذکور شخص معذور کے حکم میں داخل ہے اور وہ ہر نماز کے وقت کے لئے وضو کرکے اور اس وقت کے اندر جتنے بھی فرض ، نفل وغیرہ نمازیں ہیں ، تمام پڑھ سکتا ہے اور مذکور عذر کی وجہ سے اس کا وضو بھی نہیں ٹوٹے گا ، البتہ کوئی دوسرا ناقضِ وضو پیش آئے یا وقت گزرنے کے ساتھ وضو بھی ٹوٹ جائے گا اور دوسرے وقت کے لئے علیحدہ وضو کرنا لازم ہوگا اور جمعہ کی نماز کے لئے بھی وہ یہ صورت اختیار کرسکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (و صاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب و كذا كل ما يخرج بوجع و لو من أذن و ثدي و سرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ و يصلي فيه خاليا عن الحدث (و لو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (و هذا شرط) العذر (في حق الابتداء و في) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) و لو مرة (و في) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل (و حكمه الوضوء) لا غسل ثوبه و نحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - {لدلوك الشمس} [الإسراء : 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا و نفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي : ظهر حدثه السابق اھ (1/305)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 25326کی تصدیق کریں
0     755
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات