احکام نماز

رکوع یا سجدہ میں قطرہ نکلتا ہو تو نماز کا حکم

فتوی نمبر :
24613
| تاریخ :
2015-02-17
عبادات / نماز / احکام نماز

رکوع یا سجدہ میں قطرہ نکلتا ہو تو نماز کا حکم

میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں پیشاب کرکے وضو کرلیتا ہوں ، اور مسجد چلا جاتا ہوں ، تو جیسے ہی نماز کے رکوع یا سجدے میں جاتا ہوں، تو پیشاب کا ایک قطرہ گِر جاتا ہے، تو اس طرح میری نماز ادا ہوئی یا نہیں؟ اگر نہیں تو میری راہ نمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں؟ اور کبھی کبھی جب میں پیشاب کرلیتا ہوں، خوب تسلی کرلیتا ہوں، تو مسجد جاتے ہوئے راستے میں ایک قطرہ گِر جاتا ہے، تو تب کیا حکم ہے کہ میں وضوء دوبارہ کروں گایا نہیں؟ اور کبھی کبھی دو بار قطرے گِر جاتے ہیں۔
مہربانی فرماکر میری راہ نمائی فرمائیں دونوں مسئلوں میں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر صرف رکوع یا سجدہ کرنے سے ہی قطرہ آجاتا ہو ، تو سائل پر لازم ہے کہ اس عذر کی وجہ سے کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر اشارے سے رکوع یا سجدہ ادا کیا کریں۔
اور اگر وضوء کے بعد راستہ میں کچھ قطرے نکلتے ہوں ، اور کبھی کبھار ہو ، تو ایسی صورت میں اپنے کپڑے پاک کرنا اور دوبارہ وضوء کرنا لازم ہے، تاہم اگر ایسی حالت ہوجائے کہ پورے ایک نماز کے وقت کے اندر فرض نماز پاکی کی حالت میں یا وضوء میں پڑھنا ناممکن ہوجائے ، تو وہ شرعاً معذور شمار ہوگا ، اور ایک وقت کے لئے ایک وضوء کرکے اس وقت میں فرض و نفل وغیرہ سب پڑھ سکتا ہے ، اور اس طرح ہر وقت کے لئے نیا وضوء کرنا لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی سنن أبی داؤد: عن أبی هریرة قال: قال رسول الله ﷺ: لا یقبل الله صلوة أحدكم إذا أحدث حتی یتوضأ اھ (١٠/١)
وفی الدّر المختار: ’’فروع‘‘ یجب ردّ عذره أو تقلیله بقدر قدرته ولو بصلاته مؤمیًا اھ (٣٠٧/١)
وفی رد المحتار: تحت (قوله ولو بصلاته مؤمیا) أء كما إذا سال عند السجود ولم یسل بدونه فیؤمي قائما أو قاعدًا اھ(٣٠٧/١)
وفی تنویر الأبصار: وصاحب عذر من به سلس البول (الی قوله) ان استوعب عذره تمام وقت صلوة مفروضة ولو حكمًا (إلی قوله) وحكمه: الوضوء لكل فرض ثم یصلی فیه فرضًا ونفلًا فإذا خرج الوقت بطل اھ (٣٠٥/١). والله اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مفتی عطاء اللہ اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 24613کی تصدیق کریں
0     550
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات