نجاسات اور پاکی

پاک و ناپاک کپڑے ایک ہی بالٹی میں دھونے کا حکم

فتوی نمبر :
24487
| تاریخ :
2015-01-31
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

پاک و ناپاک کپڑے ایک ہی بالٹی میں دھونے کا حکم

ہمارے یہاں جب کپڑے دھوتے ہیں تو واشنگ مشین میں ایک بار پانی ڈالتے ہیں ، اور پھر اس میں پاک و ناپاک دونوں طرح کے کپڑے ڈال کر دیر تک گھماتے ہیں ، پھر وہ نکال کر اور کپڑے ڈالتے ہیں ، اور سارے کپڑے اس طرح دھوتے ہیں یعنی ایک بار بھی مشین کے پانی کو تبدیل نہیں کرتے ، اور پھر کسی بالٹی میں ایک دو بار ان کپڑوں کو ڈبوکر نچوڑتے ہیں، لیکن جب اس بالٹی والے پانی کا رنگ بدل جائے تب ہی پانی بدلتے ہیں ، اس وقت تک اس کو بھی نہیں بدلا جاتا ، تو کیا اس طرح دھوئے گئے کپڑے پاک ہوجاتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

تمام پاک اور ناپاک کپڑے ایک ہی بالٹی میں ڈال کر پاک کرنے سے کپڑے پاک نہیں ہوتے، بلکہ ہر مرتبہ نیا پاک پانی لیکر کپڑوں کو اس میں پاک کرنا لازم ہے، ورنہ کپڑے ناپاک ہی رہیں گے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي رد المحتار: (قوله: في إجانة) بالكسر والتشديد: إناء تغسل فيه الثياب والجمع أجاجين مصباح أي: إن هذا المذكور إنما هو إذا غسل ثلاثا في إجانة واحدة أو في ثلاث إجانات. قال في الإمداد: والمياه الثلاثة متفاوتة في النجاسة، فالأولى يطهر ما أصابته بالغسل ثلاثا، والثانية بثنتين والثالثة بواحدة، وكذا الأواني الثلاثة التي غسل فيها واحدة بعد واحدة، وقيل يطهر الإناء الثالث بمجرد الإراقة والثاني بواحدة، والأول بثنتين اهـ.
بقي لو غسل في إجانة واحدة قال في الفيض: تغسل الإجانة بعد الثلاث مرة اهـ وشمل كلامه ما لو غسل العضو في الإجانة فإنه يطهر عندهما. وقال أبو يوسف: لا يطهر ما لم يصب عليه الماء، وعلى هذا الخلاف لو أدخله في حباب الماء ولو في خوابي خل يخرج من الثالثة طاهرا عند أبي حنيفة؛ خلافا لهما، لاشتراط محمد في غسل النجاسة الماء، واشتراط أبي يوسف الصب بدائع اھ(1/ 333) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ناصر سینا محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 24487کی تصدیق کریں
1     774
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات