نجاسات اور پاکی

کیا آٹو میٹک واشنگ مشین میں کپڑے پاک نہیں ہوتے؟

فتوی نمبر :
24194
| تاریخ :
2014-12-16
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

کیا آٹو میٹک واشنگ مشین میں کپڑے پاک نہیں ہوتے؟

آج کل جیسا کہ آپ کے علم میں ہوگا ،آٹومیٹک واشنگ مشین کا رواج چل نکلا ہے ، مجھ سے کسی نے کہا ہے کہ ان مشینوں میں کپڑے پاک نہیں ہوتے، کیونکہ ان میں جب کپڑے ڈالتے ہیں ، تو پانی اوپر سے بہتا نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر کپڑے دھوتے ہوئے بالٹی سے پانی بہایا جاتا ہے، کیا یہ بات ٹھیک ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا کپڑے پاک کرکے اس مشین میں صرف دھونے /صاف کرنے کے لئے ڈالے جاسکتے ہیں؟ نیز بیان کیجیے گا کہ عام کپڑے بھی کیا ہر بار پاک کرنے پڑتے ہیں ، باقاعدہ طور پر یا دھلنے سے ہی پاک و صاف ہوجاتے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

آ ٹومیٹک واشنگ مشین میں ناپاک کپڑے دھونے کی صورت میں جب تک پاک پانی میں ان کپڑوں کو پاک نہ کیا جائے، اس وقت تک وہ ناپاک کپڑے پاک نہیں ہوتے ، اس لیے مشین میں ناپاک کپڑے دھونے کی صورت میں کپڑوں کو پاک پانی سے صاف کرنے کا اہتمام بھی کرنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي رد المحتار: (قوله: في إجانة) بالكسر والتشديد: إناء تغسل فيه الثياب والجمع أجاجين مصباح أي: إن هذا المذكور إنما هو إذا غسل ثلاثا في إجانة واحدة أو في ثلاث إجانات. قال في الإمداد: والمياه الثلاثة متفاوتة في النجاسة، فالأولى يطهر ما أصابته بالغسل ثلاثا، والثانية بثنتين والثالثة بواحدة، وكذا الأواني الثلاثة التي غسل فيها واحدة بعد واحدة، وقيل يطهر الإناء الثالث بمجرد الإراقة والثاني بواحدة، والأول بثنتين اهـ بقي لو غسل في إجانة واحدة قال في الفيض: تغسل الإجانة بعد الثلاث مرة اهـ وشمل كلامه ما لو غسل العضو في الإجانة فإنه يطهر عندهما. وقال أبو يوسف: لا يطهر ما لم يصب عليه الماء، وعلى هذا الخلاف لو أدخله في حباب الماء ولو في خوابي خل يخرج من الثالثة طاهرا عند أبي حنيفة؛ خلافا لهما، لاشتراط محمد في غسل النجاسة الماء، واشتراط أبي يوسف الصب بدائع اھ(1/ 333) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 24194کی تصدیق کریں
0     897
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات