مباحات

عالم دین کے لئے ملازمت کے خاطر پینٹ شرٹ پہننے کا حکم

فتوی نمبر :
23682
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

عالم دین کے لئے ملازمت کے خاطر پینٹ شرٹ پہننے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا سوال یہ ہے کہ ایک عالم دین کو ملازمت کی خاطر پینٹ شرٹ پہننا کیسا ہے؟ کہ یہ پہننا اسکول کے قواعد میں سے ہو۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر پینٹ اتنی کشادہ اور ڈھیلی ہو کہ اسے پہن کر اعضاء مستورہ مکمل طور پر چھپ جائیں اور ان کی ہیئت بھی ظاہر نہ ہوتی ہو، تو ایسی پینٹ کے استعمال کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ، تاہم حتی الامکان شریعت و سنت کے خلاف لباس پہنے سے اپنے آپ کو بجانا چاہیے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی ردالمحتار: تحت (قوله ولا يضر التصاقه) أي بالألية مثلا، وقوله وتشكله من عطف المسبب على السبب. وعبارة شرح المنية: أما لو كان غليظا لا يرى منه لون البشرة إلا أنه التصق بالعضو وتشكل بشكله فصار شكل العضو مرئيا فينبغي أن لا يمنع جواز الصلاة لحصول الستر. اهـ. قال ط: وانظر هل يحرم النظر إلى ذلك المتشكل مطلقا أو حيث وجدت الشهوة؟ . اهـ. قلت: سنتكلم على ذلك في كتاب الحظر، والذي يظهر من كلامهم هناك هو الأول الخ (1/410)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 23682کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات