احکام نماز

الکوحل والی پرفیوم لگا کر نماز پڑھنے کاحکم

فتوی نمبر :
2345
| تاریخ :
2006-03-19
عبادات / نماز / احکام نماز

الکوحل والی پرفیوم لگا کر نماز پڑھنے کاحکم

محترم جناب مفتی صاحب!

۱۔ پرفیوم لگانے سے ایس، ڈی الکوحل ، الکوحل ڈینٹ، الکوحل بیٹائیل یا الکوحل سی ٹائیل وغیرہ کے ذریعہ جسم پے اسپرے کر کے نماز ادا کر سکتے ہیں؟
۲۔تین چار سال کی قضاء نمازیں ۳۰ دن کے حساب پڑھنی ہے یا ۳۱ دن کے ؟ یعنی اگر میری نمازیں ۱۹۹۱ ، ماہ اکتوبر کی قضاء ہو گئی ہوں جو ۳۱ دن کی ہوتی ہوں ، تو میرے لۓ ۳۱ دن کی نمازیں پڑھنی ہے یا ۳۰ دن کی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ خوشبویات میں عموماً شہد ،جو ، پیٹرول ، گندھک ، آلو سے تیار شدہ الکحل ڈالا جاتا ہے، جس کا استعمال چونکہ اختلافی ہے، اس لۓ ایسی خوشبویات لگانے کے باوجود نماز اگرچہ درست ہو جائےگی ، لیکن اس سے احتراز بہرحال اولیٰ اور بہتر ہے، البتہ اگر تحقیق سے معلوم ہو جائے کہ کسی خوشبو میں ملائی جانے والی الکحل انگور یا کھجور سے تیار کی گئی ہے اور یہ بھی تحقیق سے معلوم ہو جائے کہ کسی کیمیاوی طریقہ سے اس کی ماہیت کو تبدیل بھی نہیں کیا گیا ،تو ایسی الکحل والی دوا یا خوشبو کے ناپاک ہونے کی وجہ سے اس کا استعمال شرعاً جائز نہیں رہےگا ، بلکہ اس کے استعمال سے کپڑے بھی ناپاک ہوں گے، اس لۓ اس قسم کے الکحل وغیرہ استعمال کرنے سے مکمل احتراز لازم ہے۔
٢۔ اگر ایام یاد ہوں تو اس کے حساب سے نماز کی ادائیگی کی جائے گی، ورنہ احتیاطاً مہینہ تیس یوم کا شمار کر کے اس کے اعتبار سے نماز کی ادائیگی کرنی چاہیۓ،جبکہ اکتوبر کے مکمل مہینہ میں اگر نماز چھوٹنا یاد ہو ، تو ۳۱ یوم کی نماز قضاء پڑھنا لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی تکملة فتح الملهم : و بهذا یتبین حکم الکحول المسکرة (ALCOHALS) التی عمّت بها البلویٰ الیوم فانها تستعمل فی کثیر من الأدویة و العطور و المرکبات الاخریٰ فانها إن إتخذ من العنب أو التمر فلا سبیل إلی حلتّها و طهارتها و إن إتخذت من غیرهما فالأمر فیها سهل ، و علی مذهب أبی حنیفة لایحرم استعمالها للتداوی أو لاغراض مباحة أخریٰ ما لم تبلغ حد الاسکار (إلی قوله) و إن معظم الکحول التی تستعمل الیوم فی الأدویة و العطور و غیرهما لا تتخذ من العنب أو التمر ، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور، أو بیترول و غیرہ (إلی قوله) و حینئذ هناك فسحة فی الأخذ بقول أبی حنیفة عند عموم البلویٰ اھ (۳/ ۶۰۸)۔
و فی الفتاوى الهندية : كل صلاة فاتت عن الوقت بعد وجوبها فيه يلزمه قضاؤها سواء ترك عمدا أو سهوا أو بسبب نوم و سواء كانت الفوائت كثيرة أو قليلة اھ (1/ 121)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ربیع الدین اسحاق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 2345کی تصدیق کریں
0     1073
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات