احکام نماز

عورتوں کی نماز کا طریقہ

فتوی نمبر :
2324
| تاریخ :
2006-03-19
عبادات / نماز / احکام نماز

عورتوں کی نماز کا طریقہ

میں کنیڈا میں ہوں ، اور نمازِ فجر پڑھنا شروع کرنا چاہتی ہوں ، لیکن میرے پاس نماز کی کتاب نہیں ہے اور یہ نہیں چاہتی کہ غلط پڑھوں ، اگر آپ مجھے نمازِ فجر تحریری صورت میں بھیج دیں تو خوشی ہوگی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نماز پڑھنے کا عمومی طریقہ لکھا جاتا ہے جو نماز فجر کو بھی شامل ہے، اس طریقہ کو ملحوظ رکھ کر عورتوں کو اپنی نمازوں کا اہتمام کرنا چاہیۓ، جبکہ مردوں کی نماز کا طریقہ اس سے کچھ مختلف ہے۔
نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ وضو کر کے ، پاک کپڑے پہن کر ، پاک جگہ پر قبلہ کی طرف منہ کر کے کھڑی ہوں ، نماز کی نیت کر کے دونوں ہاتھ کندھوں تک اُٹھائیں ، مگر ہاتھوں کو دو پٹہ سے باہر نہ نکالیں اور ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر ہاتھوں کو سینے کے اوپر باندھ لیں، داہنے ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھ لیں ، نماز میں ادھر اُدھر نہ دیکھیں ،ادب سے کھڑی ہوں،، خدا تعالیٰ کی طرف دھیان رکھیں، ہاتھ باندھ کر " سبحانک اللہم و بحمدک ، و تبارک اسمک و تعالی جدک ، و لا الہ غیرک " پھر تعوذ یعنی " اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم " اور تسمیہ " بسم اللہ الرحمن الرحیم " پڑھ کر سورۃ فاتحہ یعنی الحمد شریف آخر تک پڑھیں ، سورۃ فاتحہ ختم کر کے آہستہ سے آمین کہیں ، پھر سورۃ الاخلاص یا اور کوئی سورت جو یاد ہو وہ پڑھیں ، پھر تکبیر یعنی اللہ اکبر کہہ کر رکوع کے لۓ جھکیں ، رکوع میں دونوں ہاتھ کی انگلیاں ملا کر گھٹنوں پر کھ لیں ، رکوع میں یہ کلمات ’’سبحان ربی العظیم ‘‘ تین یا پانچ مرتبہ پڑھیں ، پھر ’’سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ کہتی ہوئی سیدھی کھڑی ہو جائیں اس کے بعد ’’ربنا لک الحمد ‘‘ بھی پڑھ لیں ، پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں اس طرح جائیں کہ پہلے زمین پر گھٹنے پھر کانوں کے برابر ہاتھ رکھیں ، ہاتھوں کی انگلیاں ملی ہوئی ہوں ، پھر دونوں ہاتھوں کی بیچ میں ماتھا رکھیں اور سجدہ کے وقت ماتھا اور ناک دونوں زمین پر رکھیں اور ہاتھ پاؤں کی انگلیاں قبلہ کی طرف رکھیں ،مگر پاؤں کھڑے نہ کریں ، بکہ داہنی طرف کو نکال دیں اور خوب سٹ اور دب کر سجدہ کریں کہ پیٹ دونوں رانوں سے ، بازوں اور پہلو سے ملا کر زمین پر کھدیں ، سجدہ میں یہ کلمات ’’ سبحان ربی الاعلی ‘‘ تین یا پانچ مرتبہ کہیں، پھر تکبیر کہتی ہوئی اُٹھیں اور سیدھی بیٹھ جائیں ، پھر تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ بھی پہلے سجدہ کی طرح کریں ، پھر تکبیر کہتی ہوئی کھڑی ہو جائیں ، اُٹھتے وقت زمین پر ہاتھ نہ ٹیکیں ، ہاں اگر ضرورت ہو تو کوئی حرج نہیں، دو سجدوں تک ایک رکعت پوری ہوگئی۔

اب دوسری رکعت شروع ہوئی تو تسمیہ پڑھ کر سورتِ فاتحہ اور اس کے بعد کوئی دوسری سورت مثلاً سورۃ الاخلاص ملا کر پڑھیں ، پھر رکوع ، قومہ ، اور دونوں سجدے کر کے اس طرح بیٹھیں کہ دونوں پاؤں داہنی طرف نکال دیں ، اور دونوں ہاتھ رانوں پر رکھ کر اُن کی انگلیاں خوب ملائیں اور اس دوران پہلے تشہد ، پھر درود شریف ، پھر دعا پڑھیں اور پھر پہلے داہنی طرف اور بعد میں بائیں طرف سلام پھیر دیں ، سلام پھیرتے وقت داہنی طرف اور بائیں طرف منہ موڑ لیں ، یہ دو رکعت نماز پوری ہوئی۔
اگر چار رکعت نماز پڑھنی ہوں ، تو دو رکعتیں اسی قاعدے سے پڑھیں جو اوپر بیان ہوا ، مگر قعدہ میں تشہد کے بعد درود شریف نہ پڑھیں ، بلکہ تکبیر کہہ کر کھڑی ہوجائیں ، پھر اگر نمازِ واجب یا سنت یا نفل ہے ، تو دو رکعتیں پہلی دو رکعتوں کی طرح پڑھ لیں اور نمازِ فرض ہے ، تو تیسری اور چوتھی رکعت میں سورتِ فاتحہ کے بعد دوسری سورت نہ ملائیں ، باقی اور سب اسی طرح پڑھیں جیسے پہلی دو رکعتیں پرھی ہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ دن ، رات کے دورانیے میں ہر مسلمان مرد و عورت پر پانچ نمازیں فرض ہیں ، جن کا پڑھنا لازم اور ضروری ہے (لیکن عورت ایامِ حیض کے دوران نماز نہ پڑھے) لہٰذا سائلہ پر لازم ہے کہ وہ مکمل پانچ نمازیں پڑھے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سلیم اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 2324کی تصدیق کریں
1     4055
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات