احکام نماز

کیا مغرب کی نماز آسمان پر ستارے ظاہر ہونے کے بعد قضاء ہوجاتی ہے؟

فتوی نمبر :
22989
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / احکام نماز

کیا مغرب کی نماز آسمان پر ستارے ظاہر ہونے کے بعد قضاء ہوجاتی ہے؟

میرا سوال یہ ہے کہ مغرب کی نماز کا آخری وقت کیا ہے ،کب قضاء ہوتی ہے؟ مجھے کچھ لوگوں نے کہا کہ جب مغرب کی نماز کے بعد آسمان پر ستارے نظر آنے لگیں تو نماز قضاء ہو جاتی ہے، جناب مسجد میں تو جو ٹائم ٹیبل ہے نماز کا، اس میں مغرب کی نماز کا انتہائی وقت عشاء کی نماز سے پہلے تک لکھا ہوتا ہے، اب اگر انسان کے ساتھ کوئی مجبوری ہوجائے اور وہ مغرب کی نماز ستارے نکلنے کے بعد پڑھے تو کیا وہ قضاء میں شمار ہوگی ؟ حدیث کا حوالہ بھی دیجیے گا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مغرب کا وقت سورج غروب ہونے کے بعد سے لیکر شفق ابیض ( آسمان کے کناروں پرسرخی کے ختم ہونے کے بعد آنے والی سفیدی) کے غائب ہونے تک رہتا ہے، جو کہ (جو کہ پاکستان میں)نقشہ اوقات میں درج حساب سے گھنٹے یا سوا گھنٹے تک رہتا ہے ،اور شفق کے غروب کے بعد نماز قضاء ہو جاتی ہے ،اس سے پہلے نماز قضاء نہیں ہوتی البتہ آسمان میں جب ستارے کثرت سے نظر آنے لگیں تو اس کے بعد نماز مغرب پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، اس لیے زیادہ ستارے ظاہر ہونے سے پہلے پہلے نمازِ مغرب پڑھ لینی چاہیے بلا عذر نماز مغرب کو مؤخر نہ کرے، مغرب کے وقت سے متعلق ذیل میں حدیث ملاحظہ ہو:

مأخَذُ الفَتوی

ففي إعلاء السنن: عن أبي هريرة قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم: إن للصلاة أولاً وآخرا، وإن أول وقت صلاة الظهر حين تزول الشمس و آخر وقتها حين يدخل وقت العصر، وإن أول وقت العصر حين يدخل وقتها و إن آخر وقتها حين تصفر الشمس، وإن اول وقت المغرب حين تغرب الشمس وإن آخر وقتها حين يغرب الشفق، الحديث. رواه الترمذى اھـ (۲/۹)
في الدر المختار: (و) وقت (المغرب منه إلى ) غروب (الشفق وهو الحمرة ) عندهما اھـ (۱/۳۶۱)
وفی الدر المختار: (و) أخر (المغرب إلى اشتباك النجوم) أي كثرتها (كره) أي التأخير لا الفعل لأنه مأمور به (تحريما) إلا بعذر كسفر اھ (1/ 368)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: إلى اشتباك النجوم) هو الأصح. وفي رواية لا يكره ما لم يغب الشفق بحر أي الشفق الأحمر؛ لأنه وقت مختلف فيه فيقع الشك. وفي الحلية بعد كلام: والظاهر أن السنة فعل المغرب فورا وبعده مباح إلى اشتباك النجوم فيكره بلا عذر اهـ قلت أي يكره تحريما اھ (1/ 368)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسد اللہ قدیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 22989کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات