محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم!
پیشاب کے بعد چند منٹ تک پانی استنجا کرنےکے باوجود وضو کے بعد جب نماز کے لیے کھڑا ہوا تو بعد میں پتہ چلتاہے کہ دو روپیہ کے سکہ کے برابر قطرہ نکل آیا ہے ۔تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟ کہ دوبارہ استنجاء کرکے (عضو دھوکر) باوضو ہوکر نماز کو لوٹاناہے یا نماز کو اسی حال میں جاری رکھناہے؟اگر کوئی یہ محسوس کرے کہ فرض نماز کے دوران قطرہ نکل رہاہے تو کیا کیا جائے ؟براہِ کرم جواب سے مطلع فرمائیں۔
مذکور دونوں صورتوں میں وضو ٹوٹ جائے گا دوبارہ وضو کرکے نماز پڑھنا ضروری ہے، لہٰذا سائل کو چاہیے کہ شلوار کا متاثرہ حصہ دھوکر نئے وضو کے ساتھ نماز پڑھنے کا اہتمام کرے اور گر وہ نماز سے اتنی دیر پہلے وضو وغیرہ کا اہتمام کرلیا کرے کہ وضو کرنے کے بعد اسے قطرہ آنے سے اطمینان ہوسکے ،تو یہ زیادہ بہتر ہے اور اگر اسے قطرہ آنے کا محض گمان ہو تو اس صورت میں استنجاء کرنے کے بعد شلوار کے متعلقہ متاثر ہونے والے مقام پر پانی کے چھینٹے ماردیا کرے، تو اس عمل سے سائل کے وسوسہ کی بیماری انشاء اللہ ختم ہوجانے کی بھی اُمید کی جاسکتی ہے۔