نمازی کے سامنے دیوار وغیرہ میں آئینہ لگا ہوا ہو، تو نماز کا کیا حکم ہے؟
نماز ہو تو جائے گی، مگر اس سے نمازی کی توجہ بٹتی ہے، اس لیے سامنے کے حصہ میں اس کا لگانا مکروہ ہے، جن سے احتراز چاہیئے۔
ففی حاشية ابن عابدين: [تتمة] بقي في المكروهات أشياء أخر ذكرها في المنية ونور الإيضاح وغيرهما: منها الصلاة بحضرة ما يشغل البال ويخل بالخشوع كزينة ولهو ولعب، ولذلك كرهت بحضرة طعام تميل إليه نفسه وسيأتي في كتاب الحج قبيل باب القرآن يكره للمصلي جعل نحو نعله خلفه لشغل قلبه اھ (1/ 654)