مفتی صاحب ایک مسئلہ ہے، جو مجھے مستقل پریشان کرتا رہتا ہے، ایک حدیث کا مفہوم ہے جس گھر میں کتا یا تصویر ہو،اس گھر میں فرشتے نہیں آتے؟ آیا ویڈیو کا بنانا بھی ایسا ہی ہے، میں ویڈیو بنانے والے اور ویڈیو دیکھنے والے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، مہربانی کر کے مجھے اطمینان دلائیں کہ ویڈیو بنانا کیسا ہے؟
مذکور حدیث تو بلاشبہ صحیح ہے مگر بعض اہل علم نے ٹی وی، موبائل، موویز وغیرہ آلات پر دیکھنے والی شکل کو تصویر کی بجائے اشبہ بالعکس صورت قرار دیا ہے، کیونکہ تصویر کسی چیز پر قرار پکڑتی ہے، اور مذکور عکس محض ایک فنی طرز عمل کے نتیجے میں ٹی وی یا موبائل وغیرہ کی اسکرین پر نظر آتا ہے، اور ختم ہو جاتا ہے، اس لیے اس کا تصویر ہونا محل نظر ہے، اور اس کو حتمی طور پر فرشتوں کی آمد سے مانع قرار نہیں دیا جاسکتا ہے، مگر مطلقاًاس کی حلت کا بھی کوئی قائل نہیں ،بلکہ جائز اور مباح پرگراموں کی ویڈیو جائز اور بے حیائی پر مبنی اشیاء کی ویڈیو ناجائز اور ممنوع ہے۔
کما فی المشکوٰۃ المصابیح: وَعَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخلق الله» (2/1274/ رقم الحدیث 4495)۔
وفیہ ایضاً: وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ تَحَلَّمَ بِحُلْمٍ لَمْ يَرَهُ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَلَنْ يَفْعَلَ وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ أَوْ يَفِرُّونَ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ وَكُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ (2/1275 رقم الحدیث 4499)۔
و فی تکملة فتح الملھم : اما التلفیزیون والفدیو فلاشک فی حرمة استعمالھما بالنظر الی مایشتملان علیہ من المنکرات الکثیر من الخلاصة والمجون والکشف عن النساء المتبرجات أو العاریات الخ (4/164)۔