مباحات

باہر ممالک سے آنے والے لباس پہننے کا حکم

فتوی نمبر :
21189
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

باہر ممالک سے آنے والے لباس پہننے کا حکم

کیا استعمال شدہ کپڑے جوباہر ممالک سے آکر ہمارے ملک میں بکتے ہیں ان کا استعما ل کرسکتے ہیں ؟
(2) ایک شخص صاحب حیثیت ہو مال دار ہو اور اس کے پاس اچھی کوالٹی کا لباس موجود ہو، تب بھی وہ استعمال شدہ کپڑے استعمال کرتا ہے، اس خیال سے کہ اچھا یا نیا لباس فضول خرچی ہے، جب تک لباس پھٹ نہ جائے نیا نہیں لینا چاہیے، اور یہ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین پیوند والا لباس پہنتے تھے ، اور یہ سادگی کی علامت ہے؟ شریعت کی نظر میں یہ سوچ کیسی ہے؟
(3) کیا اچھا لباس یا چپل پہننا تکبر کی علامت ہے؟ جبکہ پہننے والے صاحب حیثیت بھی ہو۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

باہر ممالک سے جو کپڑے ہمارے ملک میں آکر بکتے ہیں ان کو خرید کر استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں تاہم ان کے پاک ہونے میں شبہ ہو تو پاک کر کے استعمال کرنا چاہیے۔
(2،3) مالدار آدمی کو اپنی حیثیت کے مطابق اچھا لباس اور رہائش اختیار کرنا تکبر نہیں بلکہ اللہ تعالی کی نعمت کا اظہار اور شکر کی ایک قسم ہے، بشرطیکہ اس سے فخر اور تکبر وغیرہ مقصود نہ ہو، جبکہ اتباع صحابہ میں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ایک عام اور نارمل شخص کی سی زندگی گزارنا بھی جائز اوردرست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدرالمختار: ويستحب التجمل وأباح الله الزينة بقوله تعالى - {قل من حرم زينة الله التي أخرج لعباده} [الأعراف: 32]- الآية وخرج - صلى الله عليه وسلم - رداء قيمته ألف دينار زيلعي الخ (6/755)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله ويستحب التجمل إلخ) قال - عليه الصلاة والسلام - «إن الله تعالى إذا أنعم على عبده أحب أن يرى أثر نعمته عليه» الخ (6/755)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ضیاء الرحمن اجمل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 21189کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات