اگر کوئی قریبی رشتہ دار کا انتقال ہو جائے تو سوئم کا کھانا کھا سکتے ہیں، اگر والد ناراض ہو رہے ہوں اور دوسرے رشتہ دار ناراض ہو رہے ہوں اور والد نے یہ تک کہہ دیا کہ میرے مرنے پر بھی نہیں کھانا تو ایسے صورت میں کیا کرنا چاہیئے؟ کیا سب کو ناراض کر دینا چاہئے یا کھانے بیٹھ جائے؟ برائے مہربانی جلدی جواب چاہیئے اور وہ کھانا اپنا سگا بھائی ہی پکوا کر کھلا رہا ہو تو۔
سوئم وغیرہ پر کھانا کھلانا ایک بدعت بن گیا ہے، اس لیے اس بدعت کو ختم کرنے کے لیے اس کے اہتمام سے احتراز لازم ہے، اور اپنے عزیز رشتہ داروں کو بھی حکمت اور بصیرت کے ساتھ سمجھا کر منع کرنا چا۔ ہے ، مگر یہ رسم کا کھانا ہے، جس کا کھانا حرام نہیں، اس لیے والدین وغیرہ اگر مجبور کریں تو قطع رحمی سے بچنے کے لیے ناگواری کےساتھ کھا لینےمیں حرج نہیں۔
ففي حاشية ابن عابدين: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة: وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة ". اهـ. وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع اھ (2/ 240)